کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
حدیث نمبر: 1324
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اورمسجد بنا دیا گیا ہے، لہٰذا جس آدمی کو جہاں بھی نماز پالے،وہ وہیں نماز ادا کرلے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ممکنہ صورت میں فرضی نماز مساجد میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بصورت دیگر چند مخصوص مقامات کے علاوہ ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا ہے، جبکہ سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں ہی پہنچ کر نماز ادا کریں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے ((اعطیت خمسا لم یعطھن احد قبلی: … وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا …)) پر بحث کرتے ہوئے کہا: زیادہ راجح قول خطابی کا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل لوگوں کے لیے صرف مخصوص عبادت خانوں میں نماز ادا کرنا جائز تھا، جیسے کلیسا اور گرجا گھر وغیرہ، اس کی تائید عمرو بن شعیب والی روایت سے ہوتی ہے، جس مین یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ فِیْ کَنَائِسِھِمْ)) اور مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے اور بزار کی روایت کردہ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْاَنْبِیَائِ اَحَدٌ یُصَلِّیْ حَتّٰییَبْلُغَ مِحْرَابَہٗ۔)) اور (مجھسےقبل) کوئی نبی ایسا نہیں تھا جو اپنے محراب میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھتا ہو۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۷۶) اسی طرح تیمم کی رخصت بھی صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو دی گئی ہے، اس کی تفصیل کے لیے تیمم والے ابواب دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 335، 438، 3122، ومسلم: 521 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14314»