کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
حدیث نمبر: 1312
عَنْ سَهْلِ عَنْ أَبِيهِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ يُنَادِي يَدْعُو إِلَى الْفَلَاحِ وَلَا يُجِيبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ظلم ہی ظلم ہے، بلکہ کفر و نفاق ہے کہ ایک شخص مُنَادِی (مؤذن) کو سنتا ہے کہ وہ فلاح کی طرف دعوت دے رہا ہوتا ہے، لیکن وہ اس کا جواب نہیں دیتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1312
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 394 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15712»
حدیث نمبر: 1313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَاشِمٌ ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَشَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: أَمَّا هَٰذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ شَرِيكٍ: ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَخْرُجْ أَحَدٌ مِنْكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو شعثاء کہتے ہیں کہ ایک آدمی مؤذن کے اذان کہہ دینے کے بعد مسجد سے نکل گیا، اسے دیکھ کر سیّدنا ا بو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اِ س شخص نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ شریک کی بیان کردہ حدیث میں ہے: پھر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ: جب تم مسجد میں ہو اور نماز کے لیے اذان ہوجائے تو تم میں سے کوئی (مسجد سے باہر) نہ نکلے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2588، وأخرجه ابن ماجه: 733، والنسائي: 2/ 29، وابو عوانة: 2/ 8، وابن خزيمة: 1506والدارمي: 1205 الي قوله: فقد عصي ابا القاسم۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9315، 10933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10946»
حدیث نمبر: 1314
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ الْأَذَانَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اس حالت میں اذان سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے رکھ نہ دے، یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1314
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2350 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9468»
حدیث نمبر: 1315
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث میں یہ زائد بات ہے: سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور مؤذن اُس وقت اذان کہتا جب فجر طلوع ہوجاتی ۔
وضاحت:
فوائد: … (۱) اذان کے بعد کسی شرعی عذر کے بغیر ادائیگی ٔ نماز سے پہلے نہیں نکلنا چاہیے، آج کل اکثر لوگوں کا رویہیہ ہے کہ اگر وہ اذان کے وقت مسجد میں موجود ہوں تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جماعت کے شروع ہونے تک مسجد سے باہر چلے جاتے ہیں اور کوئی پروا نہیں کرتے۔ درج ذیل احادیث پر غور کریں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَسْمَعُ النِّدَائَ أَحَدٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ھٰذَا ثُمَّ یَخْرُجُ مِنْہُ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ لَا یَرْجِعُ إِلاَّ مُنَافِقٌ۔)) یعنی: وہ آدمی منافق ہے، جو میری اس مسجد میں موجود ہو، اذان سنے اور ضرورت کے بغیر نکل جائے اور پھر واپس نہ لوٹے۔ (مسند احمد، مسند طیالسی، صحیحہ: ۲۵۱۸)
(۲) … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں مسجد نبوی کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس حدیث کا مفہوم تمام مساجد کو شامل ہے، کیونکہ کثیر احادیث جماعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور مسجد سے نکلنے کی وجہ سے یہ واجب فوت ہو جاتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۱۸) جو لوگ مسجد کے انتہائی قریب اور فارغ ہونے کے باوجود نماز باجماعت کا یا سرے سے نماز کا اہتمام نہیں کرتے، ان کو درج ذیل احادیث پر غور کرنا چاہیے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ((یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّی أَسْمَعُ النَّدَائَ وَلَعَلِّیْ لَا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ، فَأَجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) اے اللہ کے رسول! میں اذان تو سنتا ہوں لیکن میرے پاس کوئی قائد نہیں (جو مجھے مسجد میں لے آئے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اذان سنے تو اللہ تعالیٰ کے داعی کی پکار پر لبیک کہہ (اور مسجد میں پہنچ)۔ (دارقطنی: ۱۹۷، سنن بیہقی: ۳/ ۵۷، صحیحہ: ۳۵۴) سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یَأْتِ فَـلَا صَلَاۃَ لَہٗاِلَّامِنْعُذْرٍ۔)) (ابوداود،ابن ماجہ) یعنی: جو آدمی اذان سننے کے باوجود نماز باجماعت کے ساتھ ادا نہ کرے تو اس کی کوئی نماز نہیں، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔
(۳) … اگر اس باب کی تمام روایات پر غور کیا جائے تو ثابت ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اذان کی ابتدا اللہ اکبر اللہ اکبر کے الفاظ سے ہوتی تھی اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم تھی، لیکن بعد میں بدعتی لوگوں اور روافض نے اعوذ باللہ … یا بسم اللہ … یا الصلاۃ والسلام … وغیرہ کا اضافہ کر لیا۔
(۴) … سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے شروع میں سحری کرنے والے کے لیے ایک رخصت کا بیان ہے کہ وہ بامر مجبوری طلوع فجر کے باوجود سحری کا کھانا کھا سکتا ہے۔ کلیہ تو یہی ہے کہ طلوع فجرِ صادق سے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے لیے اذان فجر کو معیار قرار دیا تھا، کیونکہ طلوع فجر اور اذان فجر کا ایک وقت ہوتا ہے، اس حدیث میں ایک رخصت کا بیان ہے کہ اگر کسی آدمی سے تاخیر ہو جاتی ہے اور وہ اذان سے پہلے سحری سے فارغ نہیں ہو پاتا تو اسے چندلقمے کھا لینے کی اجازت ہے۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے کہ کس شخص کو ضرورت پورا کرنے کی اجازت ہے۔ اس رخصت کا یہ مفہوم نہیں کہ اذان سننے کے بعد تفصیل کے ساتھ چائے وائے اور مختلف ڈشوں کا اہتمام شروع ہو جائے۔ (انتہت ابواب الاذان والاقا مۃ)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1315
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي: 4/ 218، والحاكم: 1/ 203 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10638»