کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
حدیث نمبر: 1306
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤذن اذان کہہ کر ٹھہر جاتا اور اقامت نہ کہتا، جب وہ دیکھ لیتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گھر سے ) نکل آئے ہیں تو اقامت کہنا شروع کر دیتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1306
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 537، والترمذي: 202، وابن خزيمة: 1525، وابو عوانة: 2/ 30 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21085»
حدیث نمبر: 1307
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ) فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جائے اور ایک روایت کے مطابق جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم نہ اٹھا کرو حتی کہ مجھے دیکھ لو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدیوں کے کھڑے ہونے کا تعلق امام سے ہے، نہ کہ اقامت سے۔ لیکن درج ذیل حدیث قابل غور ہے: سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے نہیں تھے، اس وقت تک سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت نہیں کہتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔ (صحیح مسلم) ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے انتظار میں ہوتے، جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے تو اقامت کہنا شروع کر دیتے، پھر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے، لیکن بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ ہو جاتے، اس لیے صحابہ کرام کو اپنی آمد سے پہلے کھڑے ہونے سے ہی منع کر دیا۔ جن روایات میں صحابہ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے کھڑے ہونے کا بیان ہے، ان کو درج بالا حدیث میں مذکورہ نہی سے پہلے پر یا پھر جواز پر محمول کیا جائے، اول الذکر بات زیادہ مناسب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1307
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 604، والترمذي: 592، والنسائي: 2/ 81 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22901»
حدیث نمبر: 1308
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا بِلَالُ! اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ نَفَسًا يَفْرُغُ الْأَكِلُ مِنْ طَعَامِهِ فِي مَهْلٍ وَيَقْضِي الْمُتَوَضِّئُ حَاجَتَهُ فِي مَهْلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال ! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کر کہ کھانے والا اپنے کھانے سے باآسانی فارغ ہوسکے اور وضو کرنے والا آرام سے اپنی حاجت پوری کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … یاد رہے کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کییہ حدیث سیّدنا جابر، سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا سلمان فارسی سے بھی مروی ہے، اس لیے ان مختلف اسانید کی بنا پر یہ قابل حجت ہے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام طرق ذکر کر کے کہا: یہی میرا خیال ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، کیونکہ اس کے طرق شدید ضعف سے خالی ہیں، ما سوائے تیسرے طریق کے۔ (صحیحہ: ۸۸۷) نماز با جماعت ادا کرنے والے نمازی کواذان کے بعد کون سی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہو سکتا ہے، شریعت نے اس کا تعین بھی کر دیا اور اس کا حل بھی پیشکر دیا۔ لوگوں کی فطرتی ضروریات اور حاجات کو مد نظر رکھا، تاکہ تمام لوگ نماز با جماعت کا شرف حاصل کر لیں۔ اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان اور جماعت کے درمیان تقریبا۱۵، ۱۶ منٹ کا وقفہ ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں اکثر مساجد میں نماز مغرب کی اذان کے بعد فوراً جماعت کھڑی کر دی جاتی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں دو رکعت نفل ادا کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا، اس سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے لوگ دو رکعت نفلی نماز بھی ادا کر سکتے ہیں اور اذان سن کر نماز کی تیاری کرنے والے آسانی کے ساتھ جماعت میں شریک بھی ہو سکتے ہیں۔ روحِ اذان بھییہی ہے کہ اذان کے بعد کچھ مہلت دی جائے، کیونکہ اذان کا ایک مقصد نمازیوں کو بلانا بھی ہے، اس لیے ان کے پہنچنے کا انتظار کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1308
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي الفضل وفي الباب عند الترمذي: 195، 196 واسناده ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21609»
حدیث نمبر: 1309
عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَخَا صُدَائٍ! إِنَّ الَّذِي أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زیاد بن نُعیم حضرمی بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: صدا کے بھائی! جس نے اذان کہی ہو وہی اقامت کہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1309
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد الافريقي۔ أخرجه الترمذي: 199، وابن ماجه: 717 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17537 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 1310
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَائٍ!)) قَالَ: فَأَذَّنْتُ وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ، قَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُقِيمُ أَخُو صُدَائٍ، فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: صدا کے بھائی ! اذان کہو۔ زیاد کہتے ہیں: پس میں نے اذان کہی ، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب فجر روشن ہوئی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرکے نماز کے لیے اٹھے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدائی اقامت کہے کیونکہ جو اذان کہتاہے، و ہی اقامت کہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1310
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول و أخرجه عبد الرزاق: 1817 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17679»
حدیث نمبر: 1311
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ((أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ)) فَأَلْقَيْتُهُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا رَأَيْتُ، أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ، قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ)) فَأَقَامَ هُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی ،جب سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ! خواب میں نے دیکھا ہے ، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … مؤذن کو ہی چاہیے کہ وہی اقامت کہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک مین یہی عمل رائج تھا اور اسی سے نظم و ضبط برقرار رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کوئی دوسرا آدمی بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔ جن قولی احادیث میں اقامت کو مؤذن کے ساتھ خاص کیا گیا ہے یا دوسرے کو کہنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1311
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي سھل محمد بن عمرو الانصاري الواقفي، وقد اختلف في اسناده۔ أخرجه ابوداود: 512، 513 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16590»