کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1303
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا، فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَلِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کا جمعہ وغیرہ تمام نمازوں کے لیے ایک ہی مؤذن ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ سیّدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوتے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترتے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه أبوداود: 1088، 1089، وابن ماجه: 1135، وابن خزيمة: 1837۔ وأخرج البخاري: 913، 915 و ابوداود: 1087 بنحوه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15807»
حدیث نمبر: 1304
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَذَانَيْنِ حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر اورسیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار میں (جمعہ کے لیے اذان اور اقامت) دو اذانیں ہوا کرتی تھیں،یہاں تک کے سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے زوراء مقام پر ایک اور اذان کہنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1304
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 912، والترمذي: 516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15819»
حدیث نمبر: 1305
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمر بن اوس رضی اللہ عنہ کو بنو ثقیف کے ایک آدمی نے بتایاکہ اس نے بارش والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن کو حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِی رِحَالِکُمْ ( اپنے گھروں میں پڑھ لو) کہتے ہوئے سنا تھا ۔
وضاحت:
فوائد: … ان الدینیسر یعنی: دین آسان ہے۔ کا ایک مفہوم اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جہاں شریعت نے عام حالات میں مسجد میں نماز باجماعت کو ضروری قرار دیا، وہاں کسی عذر کی وجہ سے رخصت کی گنجائش بھی رکھ دی۔بارش یا سخت سردی کے موسم میں اذان میں مندرجہ طریقوں سے تبدیلییا اضافہ کیا جائے گا۔
۱۔ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ (گھروں میں نماز پڑھ لو) کہنا، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
۲۔ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بجائے صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا۔ (بخاری، مسلم)
۳۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ سفرسردی والییا بارش والی رات کو مؤذن کو حکم دیا کہ وہ اذان دے اور آخر مین یہ کلمات کہہ دے: اَلَا صَلُّوْا فِیْ الرِّحَالِ (خبردار! اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھ لو۔) (بخاری، مسلم، بعض روایات میں سفر کا ذکر نہیں ہے)
۳۔ اذان کے بعد وَمَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ (اگر کوئی نہ آئے تو کوئی حرج نہیں) کہنا بھی درست ہیں۔ (مسند ابن ابی شیبہ: ۲/۵/۲، بیھقی: ۱/ ۳۹۸، صحیحہ: ۲۶۰۵)
جمعہ کی اذانیں کتنی ہیں؟
مسنون طریقہیہی ہے کہ عام نمازوں کی طرح جمعہ کے لیے بھی ایک اذان دی جائے اور ایک اقامت کہی جائے، دو اذانوں کا یہی مفہوم ہے۔ عہد ِ نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں اور عہد عثمانی کی ابتدا میں اذان و اقامت کا یہی طریقہ رائج رہا، اب بھی اسی کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بعض وجوہات کی بنا پر مسجد نبوی سے ایک میل دور زورائ مقام پر اذان کے کلمات کہلوانے کا اہتمام کیا تھا۔ آج کل مسجد کے اندر ہی پہلی اذان دینے کا استدلال سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے کرنا محل نظر ہے، کیونکہ وہ تو مقام زوراء پر اذان دلواتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1305
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 14بلفظ متقارب، وأخرجه عبد الرزاق في المصنف : 1925 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15433، 23167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23554»