حدیث نمبر: 1282
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیّدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنتے تو جو وہ کہتا وہی آپ کہتے، حتی کہ جب وہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ پر پہنچتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 1283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَشْهَدُ أَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ)) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ)) فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِي قَالَ: مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ: ((أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مؤذن کو أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہتے ہوئے سن کر أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہا، پھر اس نے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ عبد اللہ بن ربیعہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں اُترے تو بکری کے ایک (مردار) بچے کے پاس سے گزرے جسے پھینک دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو اس کے مالکوں کے ہاں حقیر خیال کرتے ہو؟ (تبھی تو انھوں نے اسے پھینک دیا)۔ یقینایہ دنیا اللہ کے ہاں مالکوں پر اس بچے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
حدیث نمبر: 1284
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِي قَالَ: ((أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اذان کہنے والے کو سنا کرتے تھے تو فرماتے: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ۔
حدیث نمبر: 1285
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ حَتَّى يَسْكُتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو اس کے خاموش ہونے تک وہی کہتے جو وہ کہتا۔
حدیث نمبر: 1286
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ كَمَا يَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمُ الْكَاذِبُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو جیسے وہ کہتا ویسے ہی کہتے، اور جب وہ أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہتا توسیّدنا علی رضی اللہ عنہ بھی أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ ہی کہتے ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ((وَأِنَّ الَّذِینَ جَحَدُوْا مُحَمَّدًا ھُمْ الْکَاذِبُوْنَ)) یقینا جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا ہے وہی جھوٹے ہیں۔
حدیث نمبر: 1287
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبَّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سن کر یہ دعا پڑھی: ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْناً۔)) اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، ہم اللہ کے رب ہونے پر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر خوش ہیں۔ … تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ دعا کب پڑھی جائے؟ حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ مین یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ پہلا اشھد ان لا الہ الا اللہ مراد ہے یا آخری لا الہ الا اللہ۔ مؤخر الذکر بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اذان کے بیچ میں تو اذان کے کلمات کا جواب دیا جائے گا۔ قارئین غور سے متن پڑھ کر مناسب صورت پر عمل کر لیں، ان شاء اللہ اجر مل جائے گا۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 1288
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کو سنو تو جیسے وہ کہتا ہے ویسے تم بھی کہتے رہو، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، بعد ازاں میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، کیونکہ یہ جنت کے اندر ایک ایسا مرتبہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لیے ہی مناسب ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں، جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری سفارش حلال ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 1289
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ، فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وسیلہ جنت میں ایک مرتبہ ہے اور فضیلت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی درجہ نہیں ہے، تم اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ وہ یہ وسیلہ مجھے عطا کردے۔
حدیث نمبر: 1290
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا بِأَذَانِهِمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُلْ كَمَا يَقُولُونَ فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا: ا ے اللہ کے رسول! مؤذن لوگ اپنی اذانوں کی وجہ سے ہم سے فضیلت لے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: وہ اذان کہتے وقت جو(کلمات) کہتے ہیں تو بھی وہ دوہراتا رہا کر، پھر جب تو فارغ ہو تو (اللہ سے) سوال کیا کر، (جو کچھ تو مانگے گا)تجھے دے دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1291
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ الْيَمَنِ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَٰذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یمن کے بلند ٹیلوں پر تھے، سیّدنابلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان کہنے لگے، جب وہ اذان سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یقین کے ساتھ اسی طرح (یہ کلمات) کہے، جو اس (بلال) نے کہے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن کے کلمات کا جواب صدقِ دل اور توجہ کے ساتھ دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1292
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جیسے مؤذن کہتا ہے ویسے تم بھی کہا کرو۔
حدیث نمبر: 1293
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا النَّبِيَّ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَّهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ … تو اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔
وضاحت:
فوائد: … اذان کو دعوتِ تامّہ کہا گیا، جو توحید و رسالت پر مشتمل ہے اور جس میں خیر و فلاح کی طرف آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قائم رہنے والی نماز سے مراد یہ ہے کہ عبادت کا یہ انداز ہر امت میں باقی رہا۔ جنت میں سب سے اعلی منزل کا نام وسیلہ ہے اور فضیلت سے مراد سب سے بڑھ کر عالی مرتبہ ہونا ہے۔ صحیح بخاری (۷۴۴۰) سے ثابت ہوتا ہے کہ مقام محمود سے مراد میدان حشر کا وہ مقام ہے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلق اللہ کے لیے شفاعت کی خاطر سجدہ کریں گے اور یہ سجدہ سات دن رات تک طویل ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سجدے میں وہ حمد و ثنا بیان کریں گے، جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیں اور سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 1294
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي: اللَّهُمَّ رَبَّ هَٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ النَّافِعَةِ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَارْضَ عَنِّي رِضًا لَا تَسْخَطُ بَعْدَهُ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھے: (( اللَّہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ النَّافِعَۃِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ وَارْضَ عَنِّی رِضاً لَا تَسْخَطُ بَعْدَہُ اِسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ دَعْوَتَہُ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور فائدہ دینے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج، اور مجھ سے ایسا راضی ہو جا کہ جس کے بعد تو ناراض نہ ہو۔ … تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی دعا قبول کرلیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1295
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، حَتَّى إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَلَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن علقمہ بن وقاص کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، جب ان کے مؤذن نے اذان کہی تو انھوں نے وہی (کلمات) کہے جو مؤذن کہتا تھا، حتی کہ جب اس نے حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہا تو سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا اور اس کے بعد وہی کہا جو مؤذن نے کہا ، پھر یہ بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی کہتے ہوئے سنا تھا۔
حدیث نمبر: 1296
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذنوں کے ساتھ شہادت والے کلمے کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1297
عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمُؤَذِّنِ وَكَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَيْنِ، فَكَبَّرَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِثْنَتَيْنِ، فَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَٰكَذَا حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجمع بن یحی انصاری کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور وہ مؤذن کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، مؤذن نے دو دفعہ اللہ اکبر کہا، جواب میں سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بھی دو دفعہ اللہ اکبر کہا، مؤذن نے دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بھی دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، پھر مؤذن نے دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللہ کہا تو سیّدنا ابو امامہ نے بھی دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہا، پھر میری طرف رُخ کر کے فرمایا: مجھے سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے ہی بیان کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اذان کے موقع پر کیے جانے والے اذکار کا خلاصہ یہ ہے، مذکورہ بالا احادیث میں ان کے اجرو ثواب کا ذکر ہو چکا ہے: ۱۔صدقِ دل سے مؤذن کے ساتھ اذان کے کلمات دوہرانا اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ کہنا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ کے جواب میں اَنَا (اور میں بھی) کہنا بھی درست ہے۔ (مسلم)
۲۔اذان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا
۳۔پھر یہ دعاپڑھنا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّدًا نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضَیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَہ۔)) اس دعا کے آخر میں اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے۔
۴۔ ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْنًا۔)) یہ دعا کب پڑھی جائے؟ اسی باب میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔
تنبیہ: … کیا اقامت کے کلمات کا بھی جواب دینا چاہیے؟ بعض اہل علم نے درج ذیل روایت اور اس مفہوم کی روایات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اقامت کا بھی جواب دے جائے: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) یعنی: جب تم ندا سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۱۱، صحیح مسلم: ۳۸۳)
استدلال: … چونکہ ندا کا لفظ عام ہے، اس کا اطلاق اذان اور اقامت دونوں پر ہوتا ہے، اس لیے اقامت کے کلمات کا جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکنیہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اس موضوع کی کئی روایات میں صرف اذان کو موضوع بحث بنا کر اس کے کلمات کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیےیہاں بھی ندا کے لفظ کو اذان پر محمول کرنا چاہیے۔ اس حدیث کے لفظ مؤذن سے بھییہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث میں ندا سے مراد اذان ہے۔ وگرنہ جہاں بھی لفظ ندا اور مؤذن استعمال ہو گا، ان سے اذان اور اقامت دونوں کو مراد لیا جائے گا، مثلا: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰھُمَّ رَبَّّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ … … حَلَّّتْ لَہٗشَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیح بخاری: ۶۱۴)
ہماری رائے یہ ہے کہ کسی واضح دلیل سے اقامت کے کلمات کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا، اس لیےیہ اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ اس موضوع کی درج ذیل حدیث واضح ہے، لیکن اس کی سند کمزور ہے: سیّدنا ابو امامہ یا کسی دوسری صحابی سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی، جب انھوں نے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَقَامَھَا اللّٰہُ وَ اَدَامَھَا (اللہ اس کو قائم دائم رکھے) اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (اذان والی) حدیث میں گزراہے۔ (ابوداود: ۵۲۸)
یہ حدیث تین وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے: ۱۔محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہے۔
۲۔ رجل من اہل الشام مبہم یعنی مجہول ہے۔
۳۔شہر بن حوشب متکلم فیہ ہے۔
۲۔اذان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا
۳۔پھر یہ دعاپڑھنا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّدًا نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضَیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَہ۔)) اس دعا کے آخر میں اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے۔
۴۔ ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْنًا۔)) یہ دعا کب پڑھی جائے؟ اسی باب میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔
تنبیہ: … کیا اقامت کے کلمات کا بھی جواب دینا چاہیے؟ بعض اہل علم نے درج ذیل روایت اور اس مفہوم کی روایات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اقامت کا بھی جواب دے جائے: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) یعنی: جب تم ندا سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۱۱، صحیح مسلم: ۳۸۳)
استدلال: … چونکہ ندا کا لفظ عام ہے، اس کا اطلاق اذان اور اقامت دونوں پر ہوتا ہے، اس لیے اقامت کے کلمات کا جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکنیہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اس موضوع کی کئی روایات میں صرف اذان کو موضوع بحث بنا کر اس کے کلمات کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیےیہاں بھی ندا کے لفظ کو اذان پر محمول کرنا چاہیے۔ اس حدیث کے لفظ مؤذن سے بھییہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث میں ندا سے مراد اذان ہے۔ وگرنہ جہاں بھی لفظ ندا اور مؤذن استعمال ہو گا، ان سے اذان اور اقامت دونوں کو مراد لیا جائے گا، مثلا: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰھُمَّ رَبَّّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ … … حَلَّّتْ لَہٗشَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیح بخاری: ۶۱۴)
ہماری رائے یہ ہے کہ کسی واضح دلیل سے اقامت کے کلمات کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا، اس لیےیہ اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ اس موضوع کی درج ذیل حدیث واضح ہے، لیکن اس کی سند کمزور ہے: سیّدنا ابو امامہ یا کسی دوسری صحابی سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی، جب انھوں نے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَقَامَھَا اللّٰہُ وَ اَدَامَھَا (اللہ اس کو قائم دائم رکھے) اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (اذان والی) حدیث میں گزراہے۔ (ابوداود: ۵۲۸)
یہ حدیث تین وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے: ۱۔محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہے۔
۲۔ رجل من اہل الشام مبہم یعنی مجہول ہے۔
۳۔شہر بن حوشب متکلم فیہ ہے۔