کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان
حدیث نمبر: 1271
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ: يَا عَمِّ! إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي عَشَرَةِ فِتْيَانٍ) فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نُحَاكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟)) فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ: ((قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ)) فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ نَفْسُهُ فَقَالَ: ((قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ)) ثُمَّ قَالَ لِي: ((ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ)) ثُمَّ قَالَ: ((أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةَ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَرَّتَيْنِ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ)) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: ((قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ)) وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ وَعَادَ ذَلِكَ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَهْلِي مِمَّنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جس وقت عبد العزیز بن عبد الملک بن أبی محذورہ نے عبد اللہ بن محیریز، جو سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں ایک یتیم تھے، کو شام کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کیا تو عبد اللہ بن محیریز نے کہا:میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی اے چچا جان! میں شام کی طرف جا رہا ہوں او رمجھے لگتا ہے کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے سوال ہو گا۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن محیریز نے اس کو بتایا کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: ٹھیک ہے، میں تجھے اپنی اذان کے بارے میں بتا دیتا ہوں، میں کچھ لوگوں، اور ایک روایت کے مطابق دس نوجوانوں کے ساتھ نکلا،ہم حنین کے کسی راستہ میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین سے واپس آرہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ایک راستہ میں ملے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی اور راستہ سے پیچھے ہٹ کر اس کی نقل اتارتے ہوئے اور مذاق کرتے ہوئے شور کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بلانے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کون ہے، جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟ سارے لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور وہ سچے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور اور فرمانے لگے: کھڑا ہو جا اور نماز کے لیے اذان کہہ۔ میں کھڑا ہو گیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کا حکم مجھے سب سے بڑھ کر ناپسند تھا۔ بہرحال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہہ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پھر فرمایا: اپنی آواز بڑھا کر دوبارہ کہہ: أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلا کر ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ پھر آپ نے ابو محذورہ کی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اس کے چہرے پر دو مرتبہ پھیرا، پھر اس کے ہاتھوں پر دو دفعہ پھیرا، پھر اس کے جگر پر ہاتھ مارا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ ابو محذورہ کی ناف تک پہنچ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ (اللہ تجھ میں برکت فرمائے)َ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ حکم دے دیا ہے۔ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنی کراہت تھی، وہ ساری کی ساری ختم ہو گئی او راس کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت پیدا ہو گئی۔ پھر میں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق) مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان کہنا شروع کر دی۔ عبد العزیز بن عبد الملک کہتے ہیں: میرے گھر والوں میں سے جس جس نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا، وہ عبد اللہ بن محیریز کے بیان کردہ واقعہ کے مطابق تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس واقعہ کی صحیح ترین روایات میں ابتدائے اذان میں چار دفعہ اللہ اکبر کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 1272
عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ وَأُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ مُخْتَصَرًا وَفِيهِ ذِكْرُ التَّكْبِيرِ الْأَوَّلِ أَرْبَعًا وَزَادَ فِيهِ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَإِذَا أَذَّنْتَ بِالْأَوَّلِ مِنَ الصُّبْحِ فَقُلْ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ؟)) قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجِزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرِقُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سائب مولی ابی محذورہ او رام عبد الملک بن ابی محذورہ دونوں نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، راوی نے ذرا اختصار کے ساتھ سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی، البتہ اس میں پہلی تکبیر کے چار مرتبہ کہنے کا ذکر ہے اور اس میں مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے: جس وقت تو صبح کی پہلی اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنا اور جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہنا، کیا تو نے سن لیا ہے؟ سائب کہتے ہیں: سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال کاٹتے تھے نہ ان میں مانگ نکالتے تھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا ایک انداز تھا کہ اس کے جن بالوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک ہاتھ لگا تھا، اس نے ان کو کاٹنا یا ان کو ان کی ہیئت سے ہٹانا بھی گوارہ نہ کیا۔
حدیث نمبر: 1273
عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُؤَذِّنُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِذَا قُلْتُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قُلْتُ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الْأَذَانَ الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں صبح کی نماز کے لیے اذان کہا کرتا تھا، جب میں حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہتا تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہتا، یہ پہلی اذان کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 1274
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الْأَذَانُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔اور اقامت کے الفاظ یہ ہیں:اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔
حدیث نمبر: 1275
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ فَمَسَحَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِي وَقَالَ: ((قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرْ تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ: وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى لَا يُرَجِّعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اذان کا طریقہ سکھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: بلند آواز سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ، پھر أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ دو دو مرتبہ آہستہ آواز کے ساتھ کہہ، پھر اپنی آواز بلند کر کے دو دفعہ أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ اور دو دفعہ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، پھر دو دو مرتبہ ہی کہہ: حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ۔ اگر صبح کی نماز ہو تو اَلصَّلَاۃُخَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ کہہ۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: اقامت بغیر ترجیع کے دو دو کلمے کہے گا۔
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمُؤَذِّنَ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ حَجَّاجٌ يَعْنِي مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَكُنَّا إِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَحْفَظُ غَيْرَ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اذان (کے کلمات) دو دو مرتبہ او راقامت کے ایک ایک مرتبہ تھے، البتہ مؤذن اقامت میں قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ (دو دفعہ) کہتا تھا، اور ہم جس وقت اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کے لیے نکلتے تھے۔امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے تو صرف یہی کچھ یاد ہے۔
حدیث نمبر: 1277
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوْتِرَ الْإِقَامَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
حدیث نمبر: 1278
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَسٌ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوْتِرَ الْإِقَامَةَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
مذکورہ بالا روایات میں سے ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْاَذَانِ۔ یعنی: اے اللہ کے رسول! مجھے مسنون اذان کی تعلیم دو۔ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترجیع والی اذان کی تعلیم دی۔ (ابو داود)
اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ (ابوداود، ابن ماجہ، نسائی) اور کلمات کییہ تعداد ترجیع والی اذان میںہوتی ہے۔
یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کی درخواست پر ان کو مکہ مکرمہ کا مؤذن مقرر کیا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی۵۹ ھ تک حرم مکی میں مؤذن مقرر رہے اور یہی اذان دیتے رہے، (ملاحظہ ہو: اسد الغابۃ: ۶/ ۲۷۳) ان کے بعد ان کی اولاد بھی اسی منصب پر فائز رہی اور یہی اذان کہتی رہی۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کا واقعہ غزوۂ حنین کے بعد ۸ ھ میں اور سیّدنا عبد اللہ بن زید کی خواب کا واقعہ پہلی سن ہجری میں پیش آیا، اس لیے ترجیع والی اذان کے حکم کو باقی سمجھا جائے اور اسے منسوخ نہ قرار دیا جائے۔
امام شافعی، امام احمد، امام مالک اور جمہور کے نزدیکیہ اذان مستحب ہے۔
احناف ترجیع والی اذان کے قائل نہیں ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کو تعلیم دینے کی خاطر شہادتین کا دوبارہ تذکرہ کیا تھا، نہ کہ اذان کے کلمات کی حیثیت سے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خواب والی اذان میں شہادتین کییہ زیادتی نہیں ہے۔ لیکن درج بالا دلائل و حقائق سے احناف کے اس خیال کا ردّ ہو رہا ہے۔
احناف کو اپنے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے تھی کہ راویٔ حدیث نے خود بھی ترجیع والی اذان کو سنت سمجھا اور تقریباً پچاس سال تک یہی اذان دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ احناف کا ایک قانون یہ ہے: العبرۃ بما رأی لا بما روی (راوی کے اپنے خیال اور فتوے پر اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ اس کی روایت پر)۔ اور اس مسئلہ میں تو روایت اور رائے دونوں کا ایک مفہوم ہے۔
(۲) دوہری اذان او راکیری اقامت: بعض دلائل اوپر گزر چکے ہیں، ایک حدیث میں واضح طور پر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اکیری اقامت کہنے کا حکم دیا گیا ہے، مزید دلیلیںیہ ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِشْفَعِ الْأَذَانَ، وَأَوْتِرِ الإِقَامَۃَ۔)) یعنی: اذان دوہری اور اقامت اکیری کہا کر۔ (الدارقطني في الأفراد رقم ۵۰ ج ۲، الصحیحۃ: ۱۲۷۶)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کو کسی آدمی نے خواب میں دوہری اذان اور اکیری اقامت کی تعلیم دی، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّھَا لَرُؤْیَا حَقٌّ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) یعنی: بے شک ان شاء اللہ یہ خواب حق ہے۔ یہی خواب سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بھی تصدیق کی۔ (ابوداود: ۴۹۹، ابن ماجہ: ۷۰۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کے دو دو کلمات اور اقامت کا ایک ایک کلمہ ہوتا تھا، لیکن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ دو دفعہ کہے جاتے تھے۔ (ابوداود، نسائی)
اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ والے الفاظ دو دفعہ کہے جائیں گے، جیسا کہ مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
خطابی نے کہا: حرمین، حجاز، شام، یمن، مصر، مغرب اور دیگر بعید اسلامی ممالک میں اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہنے پر عمل ہے۔ سیّدنا عمر، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا انس رضی اللہ عنہما اور امام حسن بصری، امام زہری، عمر بن عبد العزیز، امام احمد وغیرہ کا بھییہی مذہب ہے۔
معلوم نہیں کہ ان حقائق کے باوجود لوگ اکیری اقامت کہنے سے کیوں کتراتے ہیں؟
تنبیہ: … اشھد انّ امیرا لمؤمنین علی ولی اللّٰہ کے الفاظ شیعہ لوگوں کی طرف سے اذان میں زیادہ کیے گئے ہیں،یہ الفاظ کسی صحیح، بلکہ ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ فقہ جعفریہ میں بھی اذان میں ان کلمات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
اسی طرح اذان کی ابتدا میں الصلوۃ والسلام … کے الفاظ سنت سے ثابت نہیں، عہد نبوی کے مؤذن سیّدنا بلال، سیّدنا ابن ام مکتوم اور سیّدنا ابومحذورہ وغیرہیہ الفاظ نہیں کہتے تھے۔ البتہ اذان کے بعد مسنون درود اور مخصوص دعائیں پڑھنا باعث ِ فضیلت ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
مذکورہ بالا روایات میں سے ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْاَذَانِ۔ یعنی: اے اللہ کے رسول! مجھے مسنون اذان کی تعلیم دو۔ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترجیع والی اذان کی تعلیم دی۔ (ابو داود)
اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ (ابوداود، ابن ماجہ، نسائی) اور کلمات کییہ تعداد ترجیع والی اذان میںہوتی ہے۔
یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کی درخواست پر ان کو مکہ مکرمہ کا مؤذن مقرر کیا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی۵۹ ھ تک حرم مکی میں مؤذن مقرر رہے اور یہی اذان دیتے رہے، (ملاحظہ ہو: اسد الغابۃ: ۶/ ۲۷۳) ان کے بعد ان کی اولاد بھی اسی منصب پر فائز رہی اور یہی اذان کہتی رہی۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کا واقعہ غزوۂ حنین کے بعد ۸ ھ میں اور سیّدنا عبد اللہ بن زید کی خواب کا واقعہ پہلی سن ہجری میں پیش آیا، اس لیے ترجیع والی اذان کے حکم کو باقی سمجھا جائے اور اسے منسوخ نہ قرار دیا جائے۔
امام شافعی، امام احمد، امام مالک اور جمہور کے نزدیکیہ اذان مستحب ہے۔
احناف ترجیع والی اذان کے قائل نہیں ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کو تعلیم دینے کی خاطر شہادتین کا دوبارہ تذکرہ کیا تھا، نہ کہ اذان کے کلمات کی حیثیت سے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خواب والی اذان میں شہادتین کییہ زیادتی نہیں ہے۔ لیکن درج بالا دلائل و حقائق سے احناف کے اس خیال کا ردّ ہو رہا ہے۔
احناف کو اپنے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے تھی کہ راویٔ حدیث نے خود بھی ترجیع والی اذان کو سنت سمجھا اور تقریباً پچاس سال تک یہی اذان دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ احناف کا ایک قانون یہ ہے: العبرۃ بما رأی لا بما روی (راوی کے اپنے خیال اور فتوے پر اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ اس کی روایت پر)۔ اور اس مسئلہ میں تو روایت اور رائے دونوں کا ایک مفہوم ہے۔
(۲) دوہری اذان او راکیری اقامت: بعض دلائل اوپر گزر چکے ہیں، ایک حدیث میں واضح طور پر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اکیری اقامت کہنے کا حکم دیا گیا ہے، مزید دلیلیںیہ ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِشْفَعِ الْأَذَانَ، وَأَوْتِرِ الإِقَامَۃَ۔)) یعنی: اذان دوہری اور اقامت اکیری کہا کر۔ (الدارقطني في الأفراد رقم ۵۰ ج ۲، الصحیحۃ: ۱۲۷۶)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کو کسی آدمی نے خواب میں دوہری اذان اور اکیری اقامت کی تعلیم دی، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّھَا لَرُؤْیَا حَقٌّ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) یعنی: بے شک ان شاء اللہ یہ خواب حق ہے۔ یہی خواب سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بھی تصدیق کی۔ (ابوداود: ۴۹۹، ابن ماجہ: ۷۰۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کے دو دو کلمات اور اقامت کا ایک ایک کلمہ ہوتا تھا، لیکن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ دو دفعہ کہے جاتے تھے۔ (ابوداود، نسائی)
اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ والے الفاظ دو دفعہ کہے جائیں گے، جیسا کہ مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
خطابی نے کہا: حرمین، حجاز، شام، یمن، مصر، مغرب اور دیگر بعید اسلامی ممالک میں اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہنے پر عمل ہے۔ سیّدنا عمر، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا انس رضی اللہ عنہما اور امام حسن بصری، امام زہری، عمر بن عبد العزیز، امام احمد وغیرہ کا بھییہی مذہب ہے۔
معلوم نہیں کہ ان حقائق کے باوجود لوگ اکیری اقامت کہنے سے کیوں کتراتے ہیں؟
تنبیہ: … اشھد انّ امیرا لمؤمنین علی ولی اللّٰہ کے الفاظ شیعہ لوگوں کی طرف سے اذان میں زیادہ کیے گئے ہیں،یہ الفاظ کسی صحیح، بلکہ ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ فقہ جعفریہ میں بھی اذان میں ان کلمات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
اسی طرح اذان کی ابتدا میں الصلوۃ والسلام … کے الفاظ سنت سے ثابت نہیں، عہد نبوی کے مؤذن سیّدنا بلال، سیّدنا ابن ام مکتوم اور سیّدنا ابومحذورہ وغیرہیہ الفاظ نہیں کہتے تھے۔ البتہ اذان کے بعد مسنون درود اور مخصوص دعائیں پڑھنا باعث ِ فضیلت ہے۔
حدیث نمبر: 1279
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَأَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يَعْنِي يَمِينًا وَشِمَالًا وَإِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا کہ وہ (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے وقت) گھوم رہے تھے اور میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھرہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: کہ دائیں بائیں گھوم رہے تھے او راپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابو داود کی روایت مین یہ الفاظ ہیں: لَوّٰی عُنُقَہٗیَمِیْنًا وَ شِمَالًا وَلَمْ یَسْتَدِرْ (اپنی گردن کو دائیں بائیں پھیرا اور خود پورے نہیں گھومے)۔ لیکن امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ ولم یستدر کے الفاظ شاذ بلکہ منکر ہیں، کیونکہ اس کی سند میں قیس بن ربیع ضعیف ہے۔ احادیث ِ مبارکہ میں صرف چہرے اور گردن کے پھیرنے کا ذکر ہے۔ ہاں اگر مؤذن کی گردن گھومنے کے ساتھ جسم بھی گھوم جائے تو اس میں ان شاء اللہ شرعاً کوئی قباحت نہ ہو گی۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 1280
عَنِ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوَالِينَا، وَالسِّقَايَةَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَالْحِجَامَةَ لِبَنِي عَبْدِ الدَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی محذورہ اپنے باپ یا دادا سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے اور ہمارے موالیوں کے لیے اذان، اور بنوہاشم کے لیے حاجیوں کو پانی پلانا، اور بنو عبد الدار کے لیے سنگی لگانا خاص فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … اذان کو سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے خاندان کے ساتھ مخصوص کرنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ خصوصیت کے ساتھ اس کا علم رکھتے تھے اور وہ خوبصورت اور بلند آواز والے تھے۔