کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب¤اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
حدیث نمبر: 1265
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ناقوس: عیسائی لوگ اپنی نمازوں کے اوقات کا اعلان کرنے کے لیے ایک لمبی لکڑی پر چھوٹی لکڑی مارتے ہیں، اسے ناقوس کہتے ہیں۔
قرن(بوق): اس میں ایک طرف سے پھونک مارنے سے دوسری طرف سے آواز نکلتی ہے، نمازوں کے اوقات کی خبر دینے کا یہیہودیوں کا انداز تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 604، و مسلم: 377 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6357»
حدیث نمبر: 1266
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ (بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ فِي الْجَمْعِ لِلصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَهُوَ كَارِهٌ لِمُوَافَقَتِهِ النَّصَارَى) طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى، قَالَ: تَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ: ((إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِي عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ يَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي أُرِيَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَلِلَّهِ الْحَمْدُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أِسناده حسن۔أخرجه ابوداود: 499، والترمذي: 189، وابن خزيمة: 371، وابن حبان: 1679 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16592»
حدیث نمبر: 1267
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ فَكَانَ بِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يُؤَذِّنُ بِذَلِكَ وَيَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ، فَجَاءَهُ فَدَعَاهُ ذَاتَ غَدَاةٍ إِلَى الْفَجْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ: فَأُدْخِلَتْ هَذِهِ الْكَلِمَةُ فِي التَّأْذِينِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال رضی اللہ عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّب کہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔ (۱۲۶۷)
وضاحت:
فوائد: … یہ خواب سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فطری سعادت ہے، یہ سچے خواب ہیں، ایسے خوابوں کو مختلف احادیث میں نبوت کا پچیسواں، چھیالیسواں اور سترہواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ان الفاظ میں کوئی تضاد نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس اختلاف کا تعلق خواب دیکھنے والے سے ہے، جو جتنا نیک ہو گا، اتنا ہی اس کا خواب سچا ہو گا۔ ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((قال: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ۔)) یعنی: سیّدنا عبد اللہ بن زید کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ناقوس بنایا جائے، تاکہ لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جا سکے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک ناقوس بنانے کا حکم دیا تھا، ابھی اسے بجایا نہیں گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کی مشروعیت کے اسباب پیدا کر دیئے تھے۔ قابل تعجب بات ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سچے خواب کا شرف حاصل ہوا اور اذان دینے کے لیے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌّ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) یعنی: ان شاء اللہ یہ سچا خواب ہے،تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اس خواب (کے کلمات) اس پر ڈالو، تاکہ وہ اذان دے، کیونکہ وہ تیری بہ نسبت زیادہ بلند آواز والا ہے، … …۔ (ابو داود، ابن ماجہ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن خوبصورت اور بلند آواز والا ہونا چاہیے، صحیح ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند آئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اذان کی تعلیم دی۔ لیکن اس وقت اکثر مساجد میں اس چیز کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ اذان فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی ابتدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہی ہوئی، اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن دون قوله: ويدعو رسول اللّٰه صلي الله عليه وآله وسلم الي الصلاة، قال: فجائه فدعاه الي آخر الخبر۔ فھي زيادة منكرة انفرد بھا ابن اسحاق في ھذه الرواية، وھو مدلس، ولم يسمع ھذا الحديث من الزھري۔ أخرجه البھيقي: 1/ 415، وابن خزيمة: 373 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16591»
حدیث نمبر: 1268
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي مُسْتَيْقِظٌ أَرَى رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانٌ أَخْضَرَانِ نَزَلَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ جَلَسَ، ثُمَّ أَقَامَ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى، قَالَ: ((نِعْمَ مَا رَأَيْتَ، عَلِّمْهَا بِلَالًا)) قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، مجھے یوں لگا کہ میں جاگ رہا ہوں، ایک آدمی اپنے اوپر دو سبز چادریں لیے ہوئے مدینہ کے کسی باغ کی ایک طرف آسمان سے نازل ہوا، اس نے دو دو کلموں والی اذان کہی، پھر بیٹھ گیا ہے، پھر اس نے دو دو کلموں والی اقامت کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے بہترین چیز دیکھی ہے، یہ کلمات بلال کو سکھاَ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا میں نے بھی اس طرح کا خواب دیکھا تھا، لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1268
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «منقطع، ابن ابي ليلي لم يسمع من معاذ، وقد اختلف علي ابن ابي ليلي۔ أخرجه ابن خزيمة: 381، والدارقطني: 1/242۔ وأخرجه ابوداود مطولا: 506، 507 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22027، 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22377»
حدیث نمبر: 1269
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أُثَوِّبَ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) فِي حَدِيثِهِ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنْتَ فَلَا تُثَوِّبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی نماز کے علاوہ کسی دوسری نماز میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہوں اور ایک راویٔ حدیث أبو احمد کہتے ہیں کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہا کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری ٹکڑے سے مراد یہ ہے کہ اذان فجر کے علاوہ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہا جائے، جیسا کہ اس حدیث کے شروع والے حصے اور دوسری سند والی روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بمجموع طرقه وشواھده، وھذا اسناد ضعيف، أبو اسرائيل اسماعيل بن خليفة الملائي فيه ضعف لكن يعتبر في المتابعات والشواھد، وقد اضطرب في ھذا الحديث۔ أخرجه الترمذي: 198، وابن ماجه: 715 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24409»
حدیث نمبر: 1270
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ الْحَكَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بِلَالٍ قَالَ: فَأَمَرَنِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ، وَنَهَانِي عَنِ الْعِشَاءِ، فَقَالَ شُعْبَةُ: وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَلَا ذَكَرَ إِلَّا إِسْنَادًا ضَعِيفًا، قَالَ أَظُنُّ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ أُرَاهُ رَوَاهُ عَنْ عِمْرَانِ بْنِ مُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک اور سند کے ساتھ مروی حدیث یہ ہے: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہوں اور عشا سے منع فرما دیا۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ اذان فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنے کا آغاز عہد نبوی میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ہو گیا تھا، بعض دلائل کا ذکر اس باب میں موجود ہے اور بعض کا ذکر آئندہ آئے گا، کچھ مرویات درج ذیل ہیں: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ اِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِیْ الْفَجْرِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: سنت یہ ہے کہ مؤذن اذانِ فجر میں حی علی الفلاح کے بعد اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، دارقطنی، بیہقی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان سکھلائی تو اسے فرمایا: ((فَاِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قُلْتَ:اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: جب نمازِ فجر (کی اذان ہو تو) اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنا ہے۔ (ابوداود: ۵۰۰)
مطلبیہ ہے کہ یہ الفاظ الصلوۃ خیر من النوم فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا اور عشاء کی اذان مین یہ کہنے سے روک دیا جیسا کہ دیگر احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1270
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 208، والبيھقي: 1/ 424، وانظر ما قبله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24411»