کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1258
عَنِ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَكَانَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيْسَ شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ)) وَقَالَ مَرَّةً: يَا بُنَيَّ! إِذَا كُنْتَ فِي الْبَرَارِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَا شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1258
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 723، وابن خزيمة: 389، وابو يعلي: 982 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11031)۔ وأخرجه البخاري: 609، 3296 بالفاظ آتية۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11045»
حدیث نمبر: 1259
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَّ صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11325»
حدیث نمبر: 1260
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ فَيَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ يُصَلِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1260
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 608، 1222، ومسلم: 389 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9933»
حدیث نمبر: 1261
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ وَلَّى وَلَهُ ضَرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … شیطان کی اس کیفیت کا سبب شدت ِ خوف اور ہیبت ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اذان کے کلمات سنی ان سنی کرنے کے لیےیا اذان کی توہین کرنے کے لیے جان بوجھ کر یہ کیفیت اختیار کرتا ہو۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نماز کو نمازی پر خلط ملط کر دیا جائے، جب سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے شیطان کے وسوسوں سے متعلقہ یہی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کر اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوک۔ میں نے ایسے ہی کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔ (مسلم: ۲۲۰۳) معلوم ہوا کہ جب شیطان نماز میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر بائیں جانب تین دفعہ تھوک دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1261
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 389 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9159»
حدیث نمبر: 1262
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ)) وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اذان، اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی، وحدانیت و یکتانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کی شہادتوں اور لوگوں کے لیے خیر وفلاح کی دعوتوں پر مشتمل ہے، جب یہ اثر انگیز الفاظ شیطان کے کانوں میں پڑتے ہیں تو وہ بے برداشتہ اور دل برداشتہ ہو کر بھاگ پڑتا ہے اور ایسے مقام تک پہنچ کر سکون کی سانس لیتا ہے، جہاں اسلام کے عظیم شعار کے عظیم کلمات سنائی نہ دیتے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1262
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 388 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14457»
حدیث نمبر: 1263
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردّ نہیں کی جاتی۔
وضاحت:
فوائد: … مسجد کے خادم، مؤذن اور دوسرے متعلقہ لوگوں سمیت اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ انسان کی عجلت پسندی، بے صبری اور عدم برداشت نے اسے نقصان دیا ہے۔ یہ سب امور تعلق باللہ کے کمزور ہونے کا نتیجہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1263
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔أخرجه الترمذي: 212، 3594، وابوداود: 521، وابن خزيمة: 425، وابن حبان: 1696 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12200، 12584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12612»
حدیث نمبر: 1264
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نماز کے لیے بلانے سے مراد اذان ہے، اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ۔)) یعنی: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔ (أخرجہ الطیالسی: ۲۱۰۶، وابو یعلی: ۴۰۷۲، والطبرانی فی الدعا: ۴۸۵، والبغوی: ۴۲۸ باسنادین ضعیفین)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1264
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14745»