کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 1225
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَقُومُ دَهْشًا إِلَى طَهُورِهِ، قَالَ: فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْكُنُوا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّيْنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا نُعِيدُهَا فِي وَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: ((أَيَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے رہے، رات کے آخر میں ہم نے پڑاؤ ڈالا، پس ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے ہم کو جگایا، ہم میں سے ہر آدمی دہشت زدہ ہو کر وضو کے لیے کھڑا ہونے لگا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ سکون میں آجائیں، پھر ہم وہاں سے کوچ کر گئے اور چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ادا کیں، پھر نماز کو کھڑا کیا، پس ہم نے نماز پڑھی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے کل اس نماز کو اس کے وقت پر بھی لوٹا نا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ربّ تم کو سود سے منع کرے اور خود تم سے قبول کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1225
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: اينھاكم ربكم ۔ وھذا اسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران۔ ھذا حديث طويل، وأخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 344،348، 3571، ومسلم: 682 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20206»
حدیث نمبر: 1226
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَقَدْ أَدْرَكَهُمْ مِنَ التَّعْبِ مَا أَدْرَكَهُمْ مِنَ السَّيْرِ فِي اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ عَرَّسْنَا)) فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ فَنَزَلَ، فَقَالَ: ((انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا؟)) قُلْتُ: هَٰذَا رَاكِبٌ هَٰذَانِ رَاكِبَانِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً، فَقَالَ: ((احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا)) فَنَمْنَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَهَبْنَا، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: ((أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِيَ مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: ((ائْتِ بِهَا)) فَقَالَ: ((مَسُّوا مِنْهَا مَسُّوا مِنْهَا)) فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ فَقَالَ: ((ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأُ)) ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا تَقُولُونَ؟ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ)) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ: ((لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطَ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، رات کو چلنے کی وجہ سے تھکاوٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پا لیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کی طرف مڑے اور وہاں اتر گئے اور فرمایا: دیکھو، کوئی نظر آ رہا ہے؟ میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو سوار ہیں، یہاں تک کہ یہ تعداد سات افراد تک پہنچ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پس ہم سو گئے اور ہمیں سورج کی گرمی نے جگایا اور ہم ڈر گئے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے چلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ایک برتن ہے، اس میں کچھ پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤں۔ پھر فرمایا: اس سے چھوؤ، اس سے چھوؤ۔ لوگوں نے اس سے وضو کیا اور ایک گھونٹ باقی بچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! اس پانی کی حفاظت کرو، عنقریب اس کے لیے بڑی خبر ہو گی۔ پھر سیدنا بلال ؓ نے اذان ، فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نمازِ فجر ادا کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوار ہو گئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم نے نماز میں کمی کی ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی معاملہ ہے تو خود کر لو اور اگر دین کا معاملہ ہے تو میری طرف لے آؤ۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میں کمی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیند کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، کمی تو جاگنے کی صورت میں ہوتی ہے، پس اگر ایسے ہو جائے تو اِس نماز کو پڑھ لیا کرو اور اگلے دن وقت پر ادا کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 681 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22913»
حدیث نمبر: 1227
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ لَيْلًا فَنَزَلْنَا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: ((مَنْ يُطِرُّنَا؟)) فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، قَالَ: إِذًا تَنَامُ، قَالَ: لَا، فَنَامَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفِيهِمْ عُمَرُ، فَقَالَ: اهْضِبُوا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((افْعَلُوا مَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ)) فَلَمَّا فَعَلُوا قَالَ: ((هَٰكَذَا فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو حدیبیہ سے واپس آرہے تھے، ہم نے نرم زمین پر پڑاؤ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہماری حفاظت کرے گا؟ سیدنا بلال ؓ نے کہا: جی میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے۔ لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، لیکن وہ سو گئے اور سیدنا عمر ؓسمیت فلاں فلاں آدمی پہلے بیدار ہوئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: باتیں کرو باتیں (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو جائیں)۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا: اسی طرح کرو، جیسے تم کرتے ہو۔ پس انھوں نے اسی طرح کیا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح کیا کرو، یہ حکم اس کیلئے ہے جو تم میں سے نماز سے سو جائے یا بھول جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1227
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 10549، والطيالسي: 377، والطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 465 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3657»
حدیث نمبر: 1228
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتَّى عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ إِذًا)) فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكَ تَنَامُ)) فَنِمْتُ فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ وَرَكْعَتَي الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَكُونُوا لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَٰكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ)) قَالَ: ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا فَجَاؤُوا بِإِبِلِهِمْ إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خُذْ هَٰهُنَا)) فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدِ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوِيًا عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُورَةُ الْفَتْحِ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1228
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، يزيد ابن هارون سمع من المسعودي بعد الاختلاط۔ أخرجه الطيالسي: 377، والبيھقي: 2/ 218، وابويعلي: 5285، والنسائي في الكبري : 8854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3710»
حدیث نمبر: 1229
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ لَمْ يَسْتَيْقِظُوا، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالرَّكْعَتَيْنِ فَرَكَعَهُمَا ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے سو گئے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، جب جاگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نمازِ فجر کھڑی کی اور اس کو ادا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1229
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22847»
حدیث نمبر: 1230
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَرَقَدَ وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ (الرَّاوِي): فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا يَعْنِي الرُّخْصَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو پڑاؤ ڈالا اور سو گئے اور سورج کی گرمی کے ساتھ ہی بیدار ہوئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا، انھوں نے اذا ن دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: اس رخصت کے مقابلے میں مجھے دنیا وما فیہا بھی خوش نہیں کر سکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1230
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 82، وابويعلي: 2375، والطبراني: 12225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2349»
حدیث نمبر: 1231
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَٰذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ)) قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، پس جب جاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے چل دے)، کیونکہ اس منزل میں ہمارے پاس شیطان حاضر ہوا ہے، پس ہم نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نماز کھڑی کر دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر پڑھائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1231
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 680 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9530»
حدیث نمبر: 1232
عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَفَرٍ لَهُ قَالَ: ((مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟)) قَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَأَدَّوْهَا ثُمَّ تَوَضَّأُوا فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نمازِ فجر سے سو جائیں۔ سیدنا بلالؓ نے کہا: جی میں، پس وہ سورج طلوع ہونے کی جگہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، تو ان پر نیند ڈال دی گئی اور ان کو سورج کی گرمی نے بیدار کیا، پس لوگ کھڑے ہوئے اور اس نماز کو ادا کرنا چاہا، پس وضوکیا، پھر سیدنا بلالؓ نے اذان دی، پھر لوگوں نے دو دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر ادا کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 298 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16867»
حدیث نمبر: 1233
عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَافَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: ((هَلْ لَكُمْ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً؟)) أَوْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوا، فَقَالَ: ((مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟)) فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ: ((هَٰكَ لَا تَكُنَّ لُكَعَةَ)) قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهَا يَرْعَيَانِ، فَإِنِّي كَذَاكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا حَتَّى أَخَذَنِي النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي، فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرُ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا بِلَالُ! هَلْ لِي فِي الْمِيضَأَةِ؟)) يَعْنِي الْإِدَاوَةَ، قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءً لَمْ يَلُتَّهُ التُّرَابُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفْرَطْنَا، قَالَ: ((لَا، قَبَضَ اللَّهُ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا وَقَدْ صَلَّيْنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک کہ سارے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکمل ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میں پانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔
وضاحت:
فوائد: … چھوٹو نہ بن جانا اس کا مفہوم یہ ہے کہ تو اس چھوٹے بچے کی طرح نہ ہو جانا، جس کو وقت کا علم نہیں ہوتا اور جس پر نیند غالب آ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1233
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 445، 446 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16949»