کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1213
عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ مَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَقَالَ: يَا يَسَارُ! كَمْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَٰذِهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ: ((أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے عبد اللہ بن عمر یسار کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ؓ نے مجھے طلوع فجر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور کہا: یسار! کتنی نماز پڑھ چکے ہو؟ میں نے کہا: جی یہ تو میں نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تو نہ جاننے پائے، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم یہی نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! موجود لوگ غائب لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ طلوع فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، ما سوائے دو رکعتوں کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابن ماجه: 235، والترمذي: 419 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5811»
حدیث نمبر: 1214
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَوْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ؟ قَالَ يَعْلَى: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ)) قَالَ لَهُ يَعْلَى: فَأَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حُیَی بن یعلی بن امیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا یعلی ؓ کو طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے ان سے کہا: تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو اور طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہو؟ سیدنا یعلیؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر سیدنا یعلی ؓ نے کہا: اب اگر طلوع آفتاب کے وقت تم اللہ کے حکم میں لگے ہوئے ہو تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ سورج طلوع ہو رہا ہو اور تم غافل ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن حيي وابوه مجھولان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18123»