کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1206
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصر کے بعد نماز نہ پڑھا کرو، ہاں جب تک سورج بلند ہو، اس وقت تک پڑھ سکتے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1206
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1274، والنسائي: 1/ 280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1073»
حدیث نمبر: 1207
عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً، لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ ؓ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: بیشک تم لوگ ایک نماز پڑھتے ہو، یقینا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس نماز سے منع بھی کیا تھا، ان کی مراد عصر کے بعد والی دو رکعتیں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 587، 3766 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17038»
حدیث نمبر: 1208
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ دَرَّاجٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبَّحَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَرَآهُ عُمَرُ فَتَغَاضَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ! لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ربیعہ بن درّاج کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابو طالب ؓ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کیں، پس جب سیدنا عمر ؓ نے ان کو دیکھا تو ان کو غصے ہوئے اور کہا: خبردار! اللہ کی قسم! تحقیق تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز سے منع کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1208
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، صالح بن ابي الاخضر ضعيف، وربيعة بن دراج مختلف في سماع الزهري منه۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 303 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 101»
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: مَوْلَى لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَوَاللَّهِ! لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ! لَوْلَا أَنْ أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ خلیفۂ رسول سیدنا عمر ؓ نے اس کو عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کرتے ہوئے دیکھا، پس وہ اس کی طرف گئے اور اس کو نماز کی حالت میں دُرّہ لگا دیا، لیکن جب سیدنا زید ؓفارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے بعد تو میں یہ عمل ترک نہیں کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓان کے پاس بیٹھے اور کہا: اے زید بن خالد! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ اس نماز کو رات تک نماز پڑھتے رہنے کا ذریعہ بنا لیں گے تو میں ان کی وجہ سے نہ مارتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1209
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي سعيد الاعمي ، ولجھالة السائب مولي الفارسيين۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 5167، وعبد الرزاق: 3972 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17162»
حدیث نمبر: 1210
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهَا، قَالَ قَبِيصَةُ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے آلِ زبیر کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے پاس عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کی تھیں، پس آل زبیر کے لوگ یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، لیکن سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والے ہیں، ان دو رکعتوں کی وجہ یہ تھی کہ کچھ بدّو لوگ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور سوال کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے جوابات دینے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر ادا کی اور پھر بعد والی دو سنتیں ادا کیے بغیر ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے سوالات کے جوابات دینے لگ گئے، یہاں تک کہ نماز عصر ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لے گئے تو آپ کو یاد آیا کہ ظہر کے بعد والی نماز نہیں پڑھی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دو رکعتیں عصر کے بعد ادا کیں، اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 4900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21948»
حدیث نمبر: 1211
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ فَدَخَلَ شَابَّانِ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا فَقَالَ: مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتُمَاهَا وَقَدْ كَانَ أَبُوكُمَا يَنْهَى عَنْهَا، قَالَا: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا عِنْدَهَا، فَسَكَتَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمَا شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓکی اولاد میں سے دونوجوان داخل ہوئے اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کیں، انھوں نے اُن کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلا کر کہا: یہ کون سی نماز ہے، جو تم نے پڑھی ہے، تمہارا باپ تو اس سے منع کرتا تھا؟ انھوں نے کہا: سیدہ عائشہ ؓ نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس دو رکعتیں ادا کی تھیں، یہ سن کر سیدنا ابن مغفل ؓخاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22693»
حدیث نمبر: 1212
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: وَهَمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا عمر ؓ کو غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت اہتمام کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 833 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25444»