حدیث نمبر: 1196
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: ((إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قِيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَعْنِي يَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ فَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم عطا کیا ہے، اس میں سے مجھے بھی سکھلا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز فجر ادا کر لے تو مزید نماز سے رک جا، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پس جس وقت وہ طلوع ہو رہا ہو تو اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، پس جب وہ ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، جب نیزہ اپنے سائے پر کھڑا ہو جائے تو نماز سے رک جا، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پس جب سایہ (مغرب کی جانب سے مشرق کی جانب) لوٹ آئے تو پھر نماز پڑھ، اِس وقت کی نماز بھی حاضر کی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تو نمازِ عصر ادا کر لے، پس جب تو عصر کی نماز ادا کر لے تو مزید نماز پڑھنے سے رک جا، حتی کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1197
عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: ((جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ)) ثُمَّ قَالَ: ((ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْفَجْرُ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ)) قَالَ: وَإِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ وَجْهِكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ يَدَيْكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ رِجْلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن مرہ بہزی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کے کون سے حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر قبول ہونے والی نماز ہے، یہاں تک کہ نمازِ فجر پڑھ لی جائے، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک یا دو نیزوں کے بقدر سورج بلند ہو جائے، اس کے بعد قبول ہونے والی نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے ساتھ کھڑا ہو جائے، پھر کوئی نماز نہیں، یہاں تک سورج ڈھل جائے، پھر مقبول نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند رہ جائے، پھر اس کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو (وضو میں) اپنا چہرہ دھوئے گا تو تیری چہرے سے غلطیاں نکل جائیں گی، جب تو اپنے بازو دھوئے گا تو تیرے بازوؤں سے گناہ نکل جائیں گے اور جب تو اپنے پاؤں کو دھوئے گا تو تیرے پاؤں سے تیرے گناہ نکل جائیں گے۔
حدیث نمبر: 1198
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا كَانَتْ فِي وَسْطِ السَّمَاءِ قَارَنَهَا، فَإِذَا دَلَكَتْ أَوْ قَالَ: زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا، فَلَا تُصَلُّوا هَٰذِهِ الثَّلَاثَ سَاعَاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عبد اللہ صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے درمیان پہنچتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے، پس جب وہ ڈھلتا ہے تو وہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور جب وہ غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے، پھر جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے، پس تم ان تین گھڑیوں میں نماز نہ پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 1199
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعُ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو تین گھڑیوں میں نماز پڑھنے سے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع کرتے تھے، جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے اور جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔
حدیث نمبر: 1200
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، قَالَ: ((وَمَا هُوَ؟)) قَالَ: هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان بن معطل سلمی ؓ سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں، جس کو آپ جانتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیا دن اور رات میں ایسی گھڑیاں بھی ہیں، جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو نمازِ فجرپڑھ لے تو طلوع آفتاب تک مزید نماز پڑھنے سے رک جا، جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک وہ نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک سورج نیزے کی طرح تیرے سر کے برابر ہو جائے، پس جب وہ تیرے سر کے برابرہو جاتا یہ تو اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے، پس جب وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے تو نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک کہ تو نماز عصر ادا کر لے۔