کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1190
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يُصَلِّي الصُّبْحَ حَتَّى يُسَبِّحَ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اپنی جائے نماز میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ اس نے چاشت کی نماز پڑھی، جبکہ اس دورانیے میں اس نے صرف خیر والی بات کی ہو، تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں۔
حدیث نمبر: 1191
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنَاءَ أَوْ تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ حَسَنَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تو اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ اچھی طرح سورج طلوع ہو جاتا یا بلند ہو جاتا۔