کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نمازِ عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1166
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِندَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ (وَفِي لَفْظٍ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا اور عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک لیٹ کرنے کا حکم دے دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں عشا کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔
حدیث نمبر: 1167
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَسَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى صَلَّى الْمُصَلِّي وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ وَنَامَ النَّائِمُونَ وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَٰذَا الْوَقْتَ أَوْ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ)) أَوْ نَحْوَ ذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِعشاء کو اتنا مؤخر کر دیا کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجدگزاروں نے تہجد پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اس وقت میں یہ نماز پڑھنے کا حکم دے دیتا۔
حدیث نمبر: 1168
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات نمازِ عشاء سے مشغول ہو گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے، پھر ہم جاگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے، جو اس نماز کاانتظار کر رہا ہو۔
حدیث نمبر: 1169
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَلَا يُطِيلُ فِيهَا وَلَا يُخَفِّفُ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ (وَفِي لَفْظٍ: الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اتنا زیادہ لمبا کرتے تھے اور نہ مختصر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَتَمَۃ یعنی نماز عشا کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1170
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ: ((خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسُقْمُ السَّقِيمِ وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک رات کو نمازِ عشا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً نصف رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، پس بیشک (دوسری مسجدوں کے) لوگ یہ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور تم لوگ جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے تھے، اس وقت سے نماز میں ہی تھے اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور محتاج کی حاجت نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثَمَانِي لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: سَبْعَ لَيَالٍ وَقَالَ عَفَّانُ: تِسْعَ لَيَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ یا نو راتوں تک نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرتے رہے، ایک دن سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں یہ نماز جلدی پڑھا دیا کریں تو یہ عمل رات کے قیام کے لیے بہتر ہو گا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد یہ نماز جلدی پڑھا دیا کرتے تھے۔ عبد الصمد نے سات اور عفان نے نو راتوں کا ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 1172
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ الشَّكُونِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: رَقَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَاحْتَبَسَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَنْ يَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ظَنَنَّا أَنَّكَ لَنْ تَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اعْتِمُوا بِهَٰذِهِ الصَّلَاةِ فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن حمید شکونی، جو کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: ایک دن نمازِ عشاء کے لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکے رہے، یہاں تک کہ ہم یہ خیال کرنے لگے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے کوئی کہتا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز پڑھ لی ہے اور اب ہر گز نہیں نکلیں گے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اب آپ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے بعض افراد یہ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہیں لائیں گے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرو، پس بیشک اس کے ذریعے تم کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوَةً؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَٰكَذَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: تم کو وہ کون سا وقت پسند ہے کہ جس میں میں نمازِ عشاء باجماعت یا منفرد ادا کروں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء کی ادائیگی میں تاخیر کی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور پھر بیدار ہوئے، پس سیدنا عمر ؓکھڑے ہوئے اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) نماز، پس اللہ کے نبی نکلے، گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کی ایک جانب ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو حکم دیتا کہ وہ یہ نماز اس وقت میں نماز پڑھیں۔
حدیث نمبر: 1174
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَٰذِهِ السَّاعَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کہا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اِس وقت میں ادا کیا کریں۔
حدیث نمبر: 1175
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَٰذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ)) وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشاء میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ سیدنا عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آواز دی: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اِس نماز کو اِس وقت میں ادا کر رہا ہو۔ اس وقت نماز پڑھنے والے صرف مدینہ کے لوگ تھے، ایک روایت میں ہے: یہ بات اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی ہے۔
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كَلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ (وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: رَقَدَ) ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ: ((إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْ لَمْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي)) وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: ((أَنْ أَشُقَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ رات کا عام حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس نماز کا وقت ہوتا، اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا۔