کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نماز عشا کے وقت اور اس کے بعد گفتگو کرنے اور اس کو عَتَمَۃ کہنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1157
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ كَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمِ لِلْعِشَاءِ، كَانَ يُصَلِّيهَا بَعْدَ سُقُوطِ الْقَمَرِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ عشا کے وقت کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہینے کے شروع میں تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے بعد اس نماز کو ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1158
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) كَانَ يُصَلِّيهَا مِقْدَارَ مَا يَغِيبُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ ثَالِثَةٍ أَوْ رَابِعَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری یا چوتھی رات کو چاند کے غروب ہونے کے وقت کے برابر نمازِ عشا ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1159
عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ؟ قَالَ: ((إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جہینہ قبیلے کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میں عشا کی نماز کب پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات ہر وادی کے پیٹ کو بھر دے۔
حدیث نمبر: 1160
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ يَعْنِي الْعِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔
حدیث نمبر: 1161
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْدِبُ لَنَا السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو ہمارے لیے مذموم سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1162
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَدَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ خَالِدٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) مَعْنَى جَدَبَ إِلَيْنَا، يَقُولُ عَابَهَا، ذَمَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے عشاء کے بعد گفتگو کرنے کو مذموم اور معیوب سمجھا۔ خالد راوی کہتے ہیں: جَدَبَ کے معانی مذمت کرنے اور عیب لگانے کے ہیں۔
حدیث نمبر: 1163
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا يُحِبُّ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو برزہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء سے پہلے نیند کو نا پسند سمجھتے تھے اور اِس نماز کے بعد گفتگو کو پسند نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1164
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَلِكَ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے معاملات پر سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ رات کو گفتگو کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 1165
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ أَوْ عَنِ الْإِبِلِ، (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّمَا يَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ لِاعْتِامِهِمْ بِالْإِبِلِ لِحَلَابِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدّو لوگ تمہاری نمازکے نام پر غالب نہ آ جائیں، خبردار! یہ عشاء کی نماز ہے، چونکہ وہ لوگ اونٹوں کی وجہ سے رات کی تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس نماز کو عَتَمَۃ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ وہ اونٹوں کو دوہنے کی وجہ سے تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔