کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
حدیث نمبر: 1147
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ایک آدمی فارغ ہو کر بنوسلمہ کی طرف آتا، لیکن وہ اس وقت بھی اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ لیتا تھا۔
حدیث نمبر: 1148
عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْتَمُونَ يُبْصِرُونَ وَقْعَ سِهَامِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسلم قبیلے کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کرتے، پھر مدینہ سے دور اپنے گھروں کی طرف لوٹتے اور تیر پھینکتے اور اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے۔
حدیث نمبر: 1149
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے، جب سورج غروب ہو جاتا اور اس کی ٹکیہ کا کنارہ غائب ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 1150
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلُّوا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَبَادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی افطاری کے وقت نمازِ مغرب پڑھا کرو اور ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 1151
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((بَادِرُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ قَبْلَ طُلُوعِ النَّجْمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ستارے کے ظہور سے پہلے ہی نمازِ مغرب ادا کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 1152
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور اس کے آخر میں ایک کعت وتر ادا کیا جا سکتا ہے۔ وتر اگرچہ رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن یہ عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ (بخاری: ۹۹۶) (عبداللہ رفیق)