کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1142
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ (وَفِي لَفْظٍ: الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ) مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَكَأَنَّمَا وَتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ)) زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقَالَ شَيْبَانُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ): يَعْنِي غُلِبَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر عصر کی نماز ترک کر دی، ایک روایت میں ہے: جس سے نمازِ عصر فوت ہو گئی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پس گویا کہ اس کااہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ شیبان کہتے ہیں: یعنی اس کے اہل اور مال پر غلبہ پا لیا گیا۔
حدیث نمبر: 1143
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَفُوتَهُ فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصرچھوڑ دی، یہاں تک کہ وہ اس سے فوت ہو گئی، تو ایسے آدمی کا عمل ضائع کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 1144
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1145
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ أَنَسٌ) تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہیِ البتہ اس میں ہے: سیدنا انسؓ نے کہا: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ الفاظ تین مرتبہ دوہرائے، آدمی بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1146
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے آگاہ نہ کردوں، وہ عصر کی نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑا ہو کر مرغے کی طرح ٹھونگیں لگاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔