حدیث نمبر: 1133
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ فَجَلَسَ يُمْلِي خَيْرًا حَتَّى يُمْسِيَ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِيَةٍ مِنْ وَلْدِ إِسْمَاعِيلَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ادا کی اور اس کے بعد شام تک خیر والی باتیں کرتا رہا، اس کا یہ عمل اسماعیلؑ کی اولاد سے آٹھ غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ فضیلت والا ہوگا برابر ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود (۳۶۶۷) کی سند حسن ہے، اس سے زیر مطالعہ حدیث کا مفہوم ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1134
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغَفَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا، فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْكُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا ضِعْفَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ، وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبصرہ غفاریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک یہ نماز تم سے پہلے والے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں سستی برتی اور اس کو ترک کر دیا، پس تم میں سے جو شخص اس کو ادا کرے گا، اس کو دو گنا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، جہاں تک شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔
حدیث نمبر: 1135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، قَالَ: وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَيَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ) قَالَ سُلَيْمَانُ (يَعْنِي الْأَعْمَشَ أَحَدُ الرُّوَاةِ): وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ: فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نمازِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اسی طرح جب وہ نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے (فرشتوں کی دعا کے) یہ کلمات بھی کہے تھے: پس تو ان لوگوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔
حدیث نمبر: 1136
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: ((شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةَ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا)) قَالَ: ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَائَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) مَرَّةً: يَعْنِي بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے دن فرمایا تھا: ان مشرکوں نے ہمیں صلاۃِ وُسْطٰی یعنی نماز ِ عصر سے مشغول کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھا۔
حدیث نمبر: 1137
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا نَرَاهَا الْفَجْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هِيَ صَلَاةُ الْعَصْر)) يَعْنِي صَلَاةَ الْوُسْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارا خیال تھا کہ صلاۃِ وُسْطٰی سے مراد نمازِ فجر ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو نمازِ عصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد صلاۃِ وُسْطٰی تھی۔
حدیث نمبر: 1138
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا)) أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔
حدیث نمبر: 1139
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔
حدیث نمبر: 1140
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَأَلَهُ مَرْوَانُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَقَالَ: هِيَ الظُّهْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ مروان نے ان سے صلاۃِ وسطی کے بارے میں سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: یہ ظہر ہے۔
حدیث نمبر: 1141
عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ إِلَى هَٰذِهِ الْآيَةِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} فَآذِنِّي، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَى {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} قَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے مصحف لکھوں اور انھوں نے کہا: جب تو اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} پر پہنچے تو مجھے بتلانا، پس جب میں اس آیت تک پہنچا تو ان کو بتلایا اور انھوں نے یہ آیت یوں املا کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیت اسی طرح سنی تھی۔