حدیث نمبر: 1123
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَبِقَدْرِ مَا يَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُورَ وَيُبَعِّضُهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ، وَكَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے، پھر اتنا وقت ہوتا کہ بنوحارثہ بن حارث کی طرف جانے والا جاتا اور غروب ِ آفتاب سے پہلے لوٹ آتا، یہ اتنا وقت ہوتا کہ آدمی اونٹ کا نحر کرتا اور غروبِ آفتاب سے پہلے اس کا گوشت بنا لیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ پڑھتے تھے اور جب مکہ کی طرف نکلتے تو درخت کے پاس ظہر کی دو رکعت نماز پڑھتے۔
حدیث نمبر: 1124
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمْ لَأَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي عِيسَى بْنِ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ وَدَارُ أَبِي عِيسَى بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ثُمَّ إِنْ كَانَ لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّيَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہ نسبت نمازِ عصر جلدی پڑھتاہے، انصاریوں کے دو آدمیوں کے گھر مسجد ِ نبوی سے سب سے زیادہ دور تھے، ایک آدمی سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ تھے، اس کا گھر قباء میں تھا اور دوسرا آدمی سیدنا ابو عیسی بن جبر ؓتھا، اس کا گھربنوحارثہ میں تھا، اور یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے تھے، پھر جب یہ اپنے گھروں میں پہنچتے تھے تو انھوں نے ابھی تک یہ نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی جلدی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1125
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ فَأَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي وَعَشِيرَتِي فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فَقُومُوا فَصَلُّوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انسؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے، جبکہ سورج سفید اور ہالے والا ہوتا تھا، پس میں اپنے اہل اور رشتہ داروں کی طرف لوٹتا، جو کہ مدینہ کے ایک کونے میں تھے، اور جا کر ان سے کہتا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی، تم بھی اٹھو اور نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 1126
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْضَاءُ حَيَّةٌ) قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَثَلَاثَةٍ أَحْسَبُهُ، قَالَ: وَأَرْبَعَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عصر ادا کرتے، پھر بستیوں کی طرف جانے والا پہنچ جاتا، لیکن ابھی تک سورج بلند (ایک کے مطابق) سفید اور زندہ ہوتا۔ امام زہری نے کہا: یہ بستیاں، مدینہ منورہ سے دو دو ، تین تین اور (خیال ہے کہ راوی نے چار چار کا لفظ بھی بولا) میلوں کے فاصلے پر واقع تھیں۔
حدیث نمبر: 1127
عَنْ رَافِعٍ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسْمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کرتے، پھر اونٹ نحر کیا جاتا، پھر اس کو دس حصوں میں تقسیم کر کے پکایا جاتا اور پھر ہم سورج کے غروب ہونے سے قبل بھونا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔ اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر جب آدمی فارغ ہوتا تو وہ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا۔
حدیث نمبر: 1128
عَنْ أَبِي أَرْوَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ آتِي الشَّجَرَةَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو اروی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتا اور پھر غروبِ آفتاب سے قبل درخت کے پاس پہنچ جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ہیثمی کی ابو اروٰی سے ہی مروی روایت میں ذوالحلیفہ آنے کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر مطالعہ حدیث میں مذکور درخت ذوالحلیفہ میں تھا۔ (بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 1129
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے، جبکہ سورج (کی دھوپ) میرے حجرے میں ہوتی تھی، ابھی تک سایہ اوپر چڑھا نہیں ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 1130
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا وَكَانَ الْجِدَارُ بَسْطَةً وَأَشَارَ عَامِرٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عصر ادا کرتے، جبکہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا تھا اور دیوار کھلی سی (زیادہ بلند نہیں) ہوتی تھی۔ (عامر (راوی) نے ایسے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے وضاحت کی)۔
حدیث نمبر: 1131
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعِ الْكِلَابِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: مَرَرْتُ بِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا شَيْخٌ فَلَامَ الْمُؤَذِّنَ وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَٰذِهِ الصَّلَاةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَٰذَا الشَّيْخُ؟ قَالُوا: هَٰذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اہل بصرہ کا ایک آدمی عبد الواحد بن نافع کلابی کہتا ہے: میں شہر کی مسجد سے گزرا، پس نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن ایک بزرگ نے مؤذن کو ملامت کی اور کہا: کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میرے باپ نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ میں نے کہا: یہ بزرگ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عبد اللہ بن رافع بن خدیج ہے۔
حدیث نمبر: 1132
عَنْ أَبِي مَلِيحٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ (يَعْنِي الْأَسْلَمِيَّ) فِي غَزَاةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو ملیح کہتے ہیں: ہم سیدنا بریدہ اسلمی ؓ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، انھوں نے بادل والے دن کہا: اس نماز کو جلدی ادا کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ترک کر دی، اس کا عمل ضائع ہو جائے گا۔