کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1117
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کو نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے تھے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 1118
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَبْرِدُوا بِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَإِنَّ الْحَرَّ (وَفِي لَفْظٍ: فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ) مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان ظہریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک گرمی (اور ایک روایت کے مطابق سخت گرمی) جہنم کے کھولنے میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 1119
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ الْحَرُّ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ) فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: بِالظُّهْرِ) فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ)) وَذَكَرَ: ((أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سخت گرمی ہو جائے تو نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ مزید فرمایا: آگ نے اپنے ربّ سے شکوہ کیا، پس اس نے اس کو ہر سال دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔
حدیث نمبر: 1120
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 1121
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اس جیسی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 1122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: لِلظُّهْرِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَبْرِدْ)) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فِي التُّلُولِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو الحسن مہاجرکہتے ہیں: ہم ایک جنازہ سے واپس آتے ہوئے زید بن وہب کے پاس سے گزرے، انھوں نے سیدنا ابو ذرؓ سے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، مؤذن نے نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھنڈا کر۔ تین بار فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کے سائے نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اس لیے جب سخت گرمی پڑنے لگے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو۔