کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 1088
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ أَوِ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1088
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 82 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15042»
حدیث نمبر: 1089
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور ان کے درمیان نماز کاعہد ہے، جس نے اس کو چھوڑ دیا، تو یقینا اس نے کفر کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1089
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1079، والترمذي: 2621، والنسائي: 1/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23325»
حدیث نمبر: 1090
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بَرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز کا ذکر کیا اور فرمایا: جس نے نماز کی اچھی طرح حفاظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے روز نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی پوری طرح حفاظت نہ کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہو گی، نہ دلیل اور نہ نجات اور ایسا آدمی قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1090
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الدارمي: 2/ 301، وابن حبان: 1467، والطبراني في الاوسط : 1788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6576»