حدیث نمبر: 1056
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((طُولُ الْقُنُوتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں لمبا قیام کرنا۔
حدیث نمبر: 1057
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرٍ سَوْءٍ، قُلْنَا: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک رات کو نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میں نے بری چیز کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے کہا: تم نے کون سی بری چیز کا ارادہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دوں۔
حدیث نمبر: 1058
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَةَ قُلْتُ لِأَصْحَابِي: تَقَدَّمُوا وَتَخَلَّلْتُ فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مخارق کہتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے نکلے، جب ربذہ مقام پر پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم آگے چلو، میں خود پیچھے رہ گیا، پس میں سیدنا ابو ذر ؓکیا پاس گیا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ لمبا قیام کرتے اور کثرت سے رکوع و سجود کرتے، جب میں نے ان سے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے عمل کو اچھا بنانے میں کوئی کمی نہیں کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رکوع کیا، یا سجدہ کیا، اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور ایک گناہ مٹا دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1059
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ لَا يَقْعُدُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ! مَا أَرَى هَٰذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، فَقَالُوا: أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولُ لَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! مَا أُرَاكَ تَدْرِي تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، قَالَ: وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً)) فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ: جَزَاكُمُ اللَّهُ مِنْ جُلَسَائِ شَرًّا، أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) مطرف کہتے ہیں: میں کچھ قریشی افراد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، پس ایک آدمی آ کر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا، پھر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا اور بیٹھانہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس بندے کو تو اتنا بھی پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے جفت رکعتیں پڑھیں یا طاق۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی طرف جا کر اس کو کہہ نہیں دیتے۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا تو یہ خیال ہے کہ تجھے یہ بھی پتہ نہیں ہو گا کہ تو نے جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق۔ اس نے کہا: لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کیلئے سجدہ کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کیلئے ایک نیکی لکھ دے گا، ایک برائی مٹا دے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ابو ذر ہوں، یہ سن کر میں اپنے دوستوں کی طرف واپس آ گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹھنے والوں کی طرف سے برا بدلہ دے، تم نے مجھے حکم دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک فرد کو تعلیم دوں۔
حدیث نمبر: 1060
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَوَجَدْتُّ فِيهِ رَجُلًا يُكْثِرُ السُّجُودَ فَوَجَدْتُّ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: أَتَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمْ عَلَى وَتْرٍ؟ قَالَ: إِنْ أَكُ لَا أَدْرِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً)) قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) احنف بن قیس کہتے ہیں: میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور ایک بندے کو بہت زیادہ سجدے کرتے ہوئے پایا، مجھے اس کے اس عمل کی وجہ سے کچھ محسوس ہونے لگا، پس جب وہ فارغ ہوا تو میں نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو جفت رکعتوں پر سلام پھیر رہا ہے یا طاق پر؟ اس نے کہا: اگر میں نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، پھر اس نے کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا، پھر وہ رونے لگ گئے، اس نے پھر کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبرد ی، پھر وہ رونے لگ گیا، پھر اس نے کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ نہیں ہے کوئی بندہ، جو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مگر اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کی ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔میں نے اس سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، مجھے یہ تو بتلاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں صحابی ٔ رسول ابو ذر ہوں، یہ سن کر میرا دل چھوٹا ہو گیا (یعنی مجھے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی)۔
حدیث نمبر: 1061
عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ الْأَزْدِيِّ أَوِ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا فَاطِمَةَ! إِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَلْقَانِي فَأَكْثِرِ السُّجُودَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو فاطمہ ازدی یا اسدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابو فاطمہ! اگر تم مجھے ملنے کا ارادہ کرتے ہو تو کثرت سے سجدے کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو فاطمہ ؓنے کثرتِ سجود کی وجہ سے اپنی پیشانی اور گھٹنوں کو کالا کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1062
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَا أَبَا فَاطِمَةَ! أَكْثِرْ مِنَ السُّجُودِ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ مُسْلِمٍ، بَدَلَ رَجُلٍ) يَسْجُدُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا دَرَجَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو فاطمہ! کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلحاظ درجہ کے بلند کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1063
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ: ((أَلَكَ حَاجَةٌ؟)) قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَاجَتِي، قَالَ: ((وَمَا حَاجَتُكَ؟)) قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: ((وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَٰذَا؟)) قَالَ: رَبِّي، قَالَ: ((فَإِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے بنو مخزوم زیادبن ابو زیاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم یا خادمہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خادم سے کہا کرتے تھے: کیا تیری کوئی ضرورت ہے؟ ایک دن اس خادم نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن میری سفارش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور کس نے اس چیز پر تیری رہنمائی کی ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس ضرورت کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو کثرت ِ سجود کے ذریعے میری مدد کر۔
حدیث نمبر: 1064
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِيَ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ أَوْ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً)) قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: میں مولائے رسول سیدنا ثوبان ؓ کو ملا اور کہا: مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس کو ادا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے، یا کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کی خبر دیجئے، پس وہ خاموش رہے، (پھر میں نے ان سے سوال کیا، لیکن وہ خاموش رہے) پھر جب میں نے تیسری دفعہ سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کثرتِ سجود کا اہتمام کر، کیونکہ جب بھی تو سجدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کر دے گا اور تیرا ایک گناہ مٹا دے گا۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابو درداءؓ کو ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا اور انھوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا، جو سیدنا ثوبانؓ نے دیا تھا۔