حدیث نمبر: 1035
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ كَادَ يَحْسِرُ ثِيَابَهُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: ((أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَٰذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ، يَقُولُ: هَٰؤُلَاءِ عِبَادِي قَضَوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پس بیٹھنے والے بیٹھ گئے اور واپس جانے والے واپس چلے گئے، پس اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جبکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں سے کپڑے اٹھا دیں اور فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا ربّ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہا: یہ میرے بندے ہیں، ایک فرض ادا کر چکے ہیں اور دوسرے فرض کا انتظار کر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 1036
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ) فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَثُورَ النَّاسُ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَجَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ رَافِعًا إِصْبَعَهُ هَٰكَذَا وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: ((أَبْشِرُوا، (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) يَقُولُ: مَلَائِكَتِي! انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَدَّوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: قبل اس کے کہ لوگ نمازِ عشا کے لیے جلدی جلدی جمع ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی کو اس طرح اٹھایا ہوا تھا، پھر انھوں نے انتیس کی گرہ لگا کر کیفیت کو واضح کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے انگشت ِ شہادت کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، … سابق حدیث کی طرح بات ذکر کی … اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے فرشتو! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو، ایک فریضہ ادا کر چکے ہیں اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 1037
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ اللَّهِ مَالَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومُ وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والے کی مثال اس گھوڑ سوار کی ہے، جس کو اس کا گھوڑا اسے اپنی پشت پر سوار کر کے اللہ کے راستے میں اپنے دشمن کی طرف گھوڑے پر تیزی سے دوڑا جا رہا ہو، جب تک انتظار کرنے والایہ شخص بے وضو نہیں ہو جاتا، اس وقت تک فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، جبکہ وہ آدمی رباطِ اکبر میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1038
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا، إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ درجات کو بلند کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے، (وہ اعمال یہ ہیں:) ناپسند حالتوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
حدیث نمبر: 1039
وَعَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوها إِلَى الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ وَيُمْحَى بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قدم، جو بندہ نماز کے لیے اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک برائی معاف کر دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1040
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مِنْ حِينَ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتَبُ حَسَنَةً وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم کے عوض برائی مٹا دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1041
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے، جب تک بعد والی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اور جب تک آدمی (نماز کی ادائیگی کے بعد) اپنی جائے نماز میں رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، جب تک بے وضو نہیں ہو جاتا۔ حضرموت کے ایک آدمی نے کہا: ابو ہریرہ! حَدَث (یعنی بے وضو ہو جانے) سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، اس سے مراد پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا ہے۔
حدیث نمبر: 1042
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں اس باب سے متعلقہ الفاظ یہ ہیں: ((وانکم لن تزالوا فی صلاۃ منذ انتظرتموھا)) … اور تم جب سے اس نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز میں ہی رہے۔
حدیث نمبر: 1043
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهَّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔
حدیث نمبر: 1044
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ (السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی (ایک نماز ادا کرنے کے بعد اسی مجلس میں) دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1045
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ((قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ، أَمَّا إِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو ایک لشکر تیار کیا، یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: تحقیق دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں اور تم اِس نمازِ عشا کا انتظار کر رہے ہو، خبردار! بیشک تم جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے ہو، نماز میں ہی ہو۔
حدیث نمبر: 1046
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَقَامُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا)) قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حُمَید کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی پہنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو نمازِ عشا کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا چکے تو ہم صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: (دوسری مسجدوں والے) لوگ یہ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک اس نماز کے انتظار میں رہے، نماز میں ہی رہے۔ سیدنا انس ؓ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 1047
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: ((إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ أَوْ كَاتِبُهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوها إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ وضو کرکے مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے تو لکھنے والے دونوں یا ایک مسجد کی طرف اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا ہے،اور جو آدمی بیٹھ کر انتظار کر رہا ہوتا ہے، وہ نماز میں قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اس آدمی کو گھر سے نکلنے سے لے کر گھر کی طرف لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1048
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهَّرٌ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ)) وَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى هَٰذِهِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی باوضو ہو کر فرض نماز کی طرف چلا، اس کے لیے اس حاجی کا اجر ہو گا، جس نے احرام پہن رکھا ہو، اور جو چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کے لیے عمرہ کرنے والے کا اجر ہو گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جبکہ ان کے درمیان کوئی لغو کام بھی نہ ہو، یہ ایسا عمل ہے جس کو عِلِّیِّیْن میں لکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو امامہ ؓ نے کہا: ان مسجدوں کی طرف صبح کو جانا اور شام کو جانا جہاد فی سبیل اللہ میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 1049
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ وَبِحَقِّ مَمْشَايَ فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ، وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو آدمی نماز کی طرف نکلتے ہوئے یہ کلمات کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے تجھ پر سوالیوں کے حق اور اپنے چلنے کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میں فخر، سرکشی، ریاکاری اور شہرت کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے اور تیری رضامندی کو تلاش کرنے کے لیے نکلا ہوں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تو مجھے آگ سے بچا اور میرے گناہ بخش دے، بیشک گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا مگر تو ہی، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس ڈیوٹی پر لگاتا ہے کہ وہ اس آدمی کے لیے بخشش طلب کریں اور اللہ تعالیٰ خود اپنے چہرے کے ساتھ ایسے آدمی پر متوجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔