کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
حدیث نمبر: 1023
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا هَجَّرْتُ إِلَّا وَجَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ: فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ: أَشْكَنْبَ دَرْدَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جب بھی نماز کے اول میں جاتا تھا کہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور پھر فرمایا: کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کھڑا ہو جا اور نماز پڑھ، کیونکہ نماز میں شفا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … أَشْکَنْبْ دَرْدْ یہ فارسی زبان کے الفاظ ہیں، جس کے معانی ہیں: کیا تیری پیٹ میں کوئی بیماری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1023
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ذوّاد ابو المنذر ضعيف، وكذا ليث بن ابي سليم۔ أخرجه ابن ماجه: 3458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9054»
حدیث نمبر: 1024
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ، قَالَ: ((إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے، لیکن جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب یہ نماز والا عمل اس کو ایسا کرنے سے روک دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1024
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه البزار: 720، وابن حبان: 2560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9777»
حدیث نمبر: 1025
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے (کہ جزیرۂ عرب میں) نمازی اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انھیں آپس میں لڑائی اور فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بعض شارحین نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مؤمن مرتد ہو کر بتوں کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دے اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیلمہ کے اصحاب اور مانعینِ زکوۃ وغیرہ مرتد ہو گئے تھے، تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ انھوں نے کسی بت کی عبادت نہیں کی تھی۔ لیکن ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ شیطان کی دعوت عام ہے، جو کفر کی تمام انواع پر مشتمل ہے اور صرف بتوں کی عبادت کے ساتھ خاص نہیں ہے، زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس مفہوم پر محمول کیا جائے کہ نمازی لوگ نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ شیطان کی عبادت نہیں کریں گے، جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا تھا۔ (دیکھیں: تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۲۷) اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے شیطان جزیرۂ عرب میں غالب تھا اور شرک و بدعت عام تھے، دوبارہ وہ اس طرح کا غلبہ نہیں پا سکے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1025
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15002»
حدیث نمبر: 1026
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابربن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1026
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وابي يحييٰ القتات، لكن للشطر الثاني منه شاھدان يقوِّيانه۔ أخرجه الترمذي: 4، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14716»
حدیث نمبر: 1027
عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ جان لیا کہ نماز حق اور واجب ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1027
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الملك بن عبيد السدوسي مجھول۔ أخرجه البزار: 439، وعبد بن حميد: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 423»
حدیث نمبر: 1028
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرا محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کے اندر رکھی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1028
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12319»
حدیث نمبر: 1029
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریلؑ نے مجھے کہا: بیشک نماز کو آپ کو محبوب قرار دیا گیا ہے، پس اس میں سے جتنی چاہیں، پڑھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1029
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد ، ولين يوسف بن مھران۔ أخرجه الطبراني: 12929، وعبد بن حميد: 666 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2205»
حدیث نمبر: 1030
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ کہ سیدنا نعمان بن قوقلؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں ادا کرتا رہوں اور اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1030
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 15 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14447»
حدیث نمبر: 1031
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ! ائْتِينِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَٰلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((قُمْ يَا بِلَالُ! فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ اپنے انصاری سسرال کے پاس گیا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا، میرے باپ نے کہا: او بچی! وضو کا پانی لاؤ، تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ہم ان راحت والے الفاظ کا انکار کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلال! اٹھو اور نماز کے ساتھ مجھے راحت پہنچاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1031
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات۔ أخرجه ابوداود: 4986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23541»
حدیث نمبر: 1032
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غمزدہ کر دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1032
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن عبيد الله ابوقدامة مجھول، وعبد العزيز، قال الذھبي: لا يعرف، ومع ذالك وثقه العجلي وابن حبان۔ أخرجه ابوداود: 1319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23688»
حدیث نمبر: 1033
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ مِنْ آخِرِ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ)) حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ وَمَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری وصیت کے یہ الفاظ تھے: نماز کو لازم پکڑنا، نماز کو لازم پکڑنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ احسان کرنا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کو سینے میں دوہرانا شروع کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کو اظہار کرنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1033
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في الكبري : 7098، وابويعلي: 6936، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 3203 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27016»
حدیث نمبر: 1034
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری کلام یہ تھا: نماز کو لازم پکڑنا، نماز کو لازم پکڑنا اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 5156، وابن ماجه: 2698 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 585»