کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
حدیث نمبر: 1009
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمْضَانُ إِلَى رَمْضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ، مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، جب تک بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ نیکی کے کام اس شرط کے ساتھ گناہوں کا کفارہ ہیں کہ کبائر سے دور رہا جائے۔ گویا اگر کوئی بڑے گناہوں سے نہیں بچتا تو اس کے لیے صغائر معاف کیے جانے کا کوئی وعدہ نہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ مذکورہ نیکیوں سے صغائر ہی معاف ہوں گے، کبائر نہیں۔ کبائر کی معافی کے لیے توبہ کرنی ہوگی۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 1010
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ، وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ الَّذِي قَبْلَهُ كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ)) قَالَ: فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ، ((إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةِ)) قَالَ: ((أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ فَأَنْ تُعْطِيَ رَجُلًا بَيْعَتَكَ ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز پچھلی نماز تک کفارہ ہے، جمعہ پچھلے جمعہ تک کفارہ ہے اور ماہِ رمضان پچھلے مہینے تک کفارہ ہے، مگر تین گناہوں سے۔ ہم نے پہچان لیا کہ کوئی نئی صورتِ حال واقع ہوئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، معاہدے کو توڑنا اور سنت کو ترک کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاہدے کو توڑنا یہ ہے کہ تو کسی آدمی سے عہد و پیمان کرے، لیکن پھر تو تلوار کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دے، اور سنت کو ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 1011
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ! أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: هَٰكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ! أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: ((إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَّ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَٰذَا الْوَرَقُ، وَقَالَ: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عثمان کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی ؓ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، انھوں نے اس کی خشک ٹہنی کو پکڑا اور اس کو ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے، پھر کہا: اے ابو عثمان! کیا تم مجھ سے یہ سوال نہیں کرتے کہ میں نے ایسے کیوں کیاہے؟ میں نے کہا: جی آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایسے کیا تھا، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک شاخ کو پکڑ کر ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گرگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: سلمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: جی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مسلمان جب وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں، جیسے یہ پتے گر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)
حدیث نمبر: 1012
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ، قَالَ: فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، قَالَ: فَقَالَ: ((يَا أَبَا ذَرٍّ!)) قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَتَهَافَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَٰذَا الْوَرَقُ عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سردیوں کے موسم میں نکلے، جبکہ پتے گر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑیں اور ان سے پتے جھڑنا شروع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر!)) میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مسلمان بندہ جب نماز ادا کرتا ہے، جبکہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہو تو اس سے اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں، جیسے اس درخت سے یہ پتے گر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 1013
عَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ أَظُنُّهُ سَيَكُونُ فِيهِ مُدٌّ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءِي هَٰذَا، ثُمَّ قَالَ: ((وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءِي ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يَبِيتَ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ)) قَالُوا: هَٰذِهِ الْحَسَنَاتُ فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: هُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے عثمان حارث کہتے ہیں: ایک دن سیدنا عثمان ؓبیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی اُن کے ارد گرد بیٹھ گئے، جب مؤذن آیا تو انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، میرا خیال ہے کہ وہ ایک مُدّ پانی ہو گا، پس انھوں نے وضو کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: جس نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور پھر کھڑا ہوا اور نمازِ ظہر ادا کی، اس کے وہ گناہ بخش دیئے جائیں گے جو اِس ظہر اور فجر کے درمیان ہوں گے، پھر جب وہ عصر کی نماز پڑھے گا تو عصر اور ظہر کے درمیان والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، جب وہ مغرب پڑھے گا تو اِس نماز اور عصر کی نماز کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جائیں گے، جب وہ عشا پڑھے گا تو عشا اور مغرب کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جائیں گے، پھر ممکن ہے کہ وہ رات گزارے اور الٹ پلٹ ہوتا رہے، پھر جب اٹھے گا اور وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرے گا تو اِس نماز اور عشا کی نماز کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جائیں، یہ نیکیاں ہیں، جو برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہیں، باقی رہنے والی چیزیں کون سی ہیں، اے عثمان!؟ انھوں نے کیا: وہ یہ اذکار ہیں: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔
حدیث نمبر: 1014
عَنْ حُمْرَانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ، فَقَالَ الْحَكْمُ بْنُ الْعَاصِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ، قَالَ: فَقَالَ: فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ، تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَٰذَا الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ هَٰذَا الْوُضُوءَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَةِ الْأُخْرَى مَالَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً)) يَعْنِي كَبِيرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمران کہتے ہیں: سیدنا عثمان ؓقبولیت ِ اسلام کے بعد ہر روز غسل کرتے تھے، ایک دن میں نے ان کے لیے نماز کے لیے وضو کا پانی رکھا، پس جب انھوں نے وضو کیا تو کہا: میں نے تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ میں وہ تم کو بیان نہیں کروں گا۔ حکم بن عاص نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر وہ بھلائی پر مشتمل ہو گی تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اگر اس میں کسی شرّ کا تعین کیا گیا تو ہم اس سے بچیں گے، یہ سن کر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: ٹھیک ہے، میں تم لوگوں کو بیان کر دیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وضو کی طرف وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے اس وضو کے مطابق وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوا اور رکوع و سجود کو مکمل کیا، تو یہ نماز اپنے اور سابقہ نماز کے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1015
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو مکمل کیا تو فرضی نمازیں اپنے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔
حدیث نمبر: 1016
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهْرٌ يَجْرِي يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ)) قَالُوا: لَا شَيْءٌ، قَالَ: ((إِنَّ الصَّلَاةَ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے صحن میں جاری نہر ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ دفعہ غسل کرتا ہو، کیا اس کی میل کچیل باقی رہے گی؟ انھوں نے کہا: جی کچھ بھی باقی نہیں رہے گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز بھی گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہے، جیسے پانی میل کو ختم کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1017
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا تَقُولُونَ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟)) قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: ((ذَاكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو، کیا اس کی میل باقی رہے گی؟ لوگوں نے کہا: اس کی میل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی بھی یہی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1018
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ مِنْ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ، فَقَالَ: ((أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي؟)) فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ، فَقَالَ: ((مَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ)) ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: ((إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا تَرَوْنَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد ؓاور صحابۂ کرام میں کچھ مزید لوگوں سے بھی سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو آدمی بھائی تھے اور ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا اور وہ فوت ہو گیا، جو زیادہ فضیلت والا تھا، اس کے بعد دوسرا بھائی مزید چالیس دنوں تک زندہ رہا اور پھر فوت ہو گیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پہلے فوت ہونے والی کی دوسرے پر فضیلت کو ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا دوسرے نے (چالیس روز) نمازیں نہیں پڑھیں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! اس پر کوئی اعتراض نہیں (یعنی وہ بھی آدمی اچھا ہی تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا علم کہ اس کی ان نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے، جو ڈوبنے کے بقدر گہری ہو، میٹھے پانی کی ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ گھستا ہو (یعنی اس میں داخل ہو کر نہاتا ہو)، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اس کی کوئی میل کچیل باقی چھوڑے گی؟
حدیث نمبر: 1019
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے، جو چل رہی ہو، ڈوبنے کے بقدر گہری ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے پر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہاتا ہو۔
حدیث نمبر: 1020
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ)) وَقَالَ: وَأُخْرَى أَقُولُهَا لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ، مَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنَّ هَٰذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک بنایا، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں ڈال دے گا۔ پھر سیدنا ابن مسعود ؓ نے کہا: دوسری بات میں خود کہہ رہا ہوں، میں نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی ہے: جو آدمی اس حال میں مرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں بناتا تو وہ اِس کو جنت میں داخل کرے گا اور یقینا یہ نمازیں اپنے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1021
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ إِمْرَئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ فَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ، ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ، ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ کھڑا ہوتا ہے، وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نماز کی وجہ سے اِس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان والے اس کے گناہ معاف کر دیتاہے، پھر اگلی فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ نماز ادا کرتا ہے اور اچھی طرح نماز ادا کرتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز اور اِس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بعد ازاں اگلی فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز سے اِس سے پہلی والی نماز کے درمیان والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1022
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نماز اپنے سے پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔