حدیث نمبر: 1002
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ((افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا)) قَالَ: هَلْ عَلَيَّ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ؟ قَالَ: ((افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا)) قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَا أَزِيدُ فِيهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو نمازیں فرض کی ہیں، مجھے ان کے بارے میں بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اِن سے پہلے یا اِن کے بعد بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ تین دفعہ ارشاد فرمایا، پھر اس بندے نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہ میں ان میں کسی چیز کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 1003
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فُرِضَ عَلَى نَبِيِّكُمْ خَمْسُونَ صَلَاةً، فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا خَمْسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تمہارے نبی پر پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں، پھر انھوں نے اپنے ربّ سے سوال کیا، پس اس نے ان کو پانچ کر دیا۔
حدیث نمبر: 1004
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أُمِرَ نَبِيُّكُمْ بِخَمْسِينَ صَلَاةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) تمہارے نبی کو پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، … ۔
حدیث نمبر: 1005
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ سَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْإِسْرَاءِ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَرَضَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: مَا ذَا فَرَضَ رَبُّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، فَقَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَاجِعْ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے (یہ ایک طویل حدیث ہے، سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے، یہ پوری حدیث اسراء میں آئے گی، اس مقام پر یہ حصہ جو آگے آ رہا ہے، مطلوب ہے:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میں یہ چیزیں لے کر لوٹ پڑا، جب میں موسیؑ کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: تیرے ربّ نے تیری امت پر کیا کچھ فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: جی اُن پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، یہ سن کر موسیؑ نے کہا: اپنے ربّ سے بات کرو، تیری امت اس عمل کی طاقت نہیں رکھے گی، پس میں نے اپنے ربّ سے بات کی تو اللہ تعالیٰ نے آدھی نمازیں معاف کر دیں، پھر میں موسیؑ کی طرف لوٹا اور ان کو بتایا، لیکن انھوں نے پھر کہا: اپنے ربّ سے پھر بات کرو کیونکہ تمہاری امت اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی، پس میں نے اپنے ربّ سے پھر بات کی تو اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ پانچ ہیں اور یہ پچاس ہیں، میرے ہاں قول تبدیل نہیں کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 1006
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَزَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَتَرَكَ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي نَحْوِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا اور سفری نماز کو اسی طرح رہنے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع پر سیدہ عائشہ ؓسے مروی حدیث یہ ہے، وہ کہتی ہیں: فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فِیْ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَاُقِرَّتِ صَلَاۃُ السَّفَرِ وَزِیْدَ فِیْ الْحَضَرِ۔ … حضر و سفر کی نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، پھر اس (مقدار) کو سفر ی نماز قرار دیا گیا اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 1007
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان کے مطابق مقیم پر نماز کی چار، مسافر پر دو اور ڈرنے والے پر ایک رکعت فرض کی۔
حدیث نمبر: 1008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالْغَسْلُ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً وَالْغَسْلُ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نمازیں پچاس تھیں، غسلِ جنابت بھی سات دفعہ تھا اور پیشاب کو دھونا بھی سات بار تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ پانچ نمازیں، ایک بار غسل جنابت اور ایک بار پیشاب کے دھونے کو مشروع قرار دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داؤد میں یہ الفاظ ہیں: ((غَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ۔)) یعنی پیشاب والے کپڑے کو دھونا۔ (عبداللہ رفیق)