حدیث نمبر: 981
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجُتُهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْأَبَاطِ، وَلَا يَغْتَرُّ بِهَٰذَا النَّاسُ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَاللَّهِ! مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے آخری حصے میں اولات الجیش کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیوی سیدہ عائشہؓ بھی تھیں، ان کا ظفار کے موتیوں کا ہار گم ہو گیا اور لوگوں کو اس ہار کی تلاش کے لیے روک لیا گیا، اُدھر فجر روشن ہو رہی تھی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل کر دی، پس مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان کو اٹھایا اور مٹی ہاتھوں کے ساتھ بالکل نہیں اٹھائی۔ پھر ان کو اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں کے ظاہری حصے سے کندھوں تک اور باطنی حصے سے بغلوں تک، ان حصوں پر بھی ہاتھ پھیرے۔ لیکن لوگوں کو اس کیفیت سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابو بکر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ تو بہت برکت والی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: امام شافعی نے کہا: اگر تیمم کی یہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بنا پر تھی توبعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہونے والی کیفیت اس کے لیے ناسخ ہو گی اور اگر یہ صورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے بغیر تھی تو حجت تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہی ہوتا ہے۔ (میں ابن حجر کہتا ہوں:) صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی جس روایت میں صرف ہاتھوں اور چہرے کا ذکر ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عمار ؓآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اسی کیفیت کا فتوی دیتے تھے، جبکہ وہ اس حدیث کے راوی بھی ہے اور راوی اپنے روایت کو زیادہ سمجھتا ہے، بالخصوص جب وہ مجتہد بھی ہو۔ (فتح الباری: ۱/ ۴۴۵)
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ثَنَا شَقِيقٌ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ لَمْ يُصَلِّ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَذْكُرُ إِذْ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ: أَلَا تَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِيَّاكَ فِي إِبِلٍ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَتَمَرَّغْتُ بِالْتُّرَابِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَٰكَذَا)) وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ مَسَحَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا وَمَسَحَ وَجْهَهُ مَسْحَةً وَاحِدَةً بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاجَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَٰذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا}؟ قَالَ: فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ، وَقَالَ: لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي التَّيَمُّمِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ إِنْ بَرَدَ الْمَاءُ عَلَى جِلْدِهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَأَنْكَرَهُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، فَسَأَلْتُ حَفْصَ بْنَ غَيَاثٍ فَقَالَ: كَانَ الْأَعْمَشُ يُحَدِّثُنَا بِهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَذَكَرَ أَبَا وَائِلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسی اشعری ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے کہا: اگر کسی آدمی کو پانی نہ ملے تو وہ نماز نہیں پڑھے گا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو موسیؓ نے کہا: کیا تمہیں یاد نہیں ہے کہ سیدنا عمار ؓ نے سیدنا عمر ؓ سے کہا: کیا تم کو یاد نہیں رہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور آپ کو اونٹوں کے ساتھ بھیجا تھا، مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، پس میں مٹی میں لیٹا تھا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس لوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: صرف تجھے یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کر لیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا اور ان کو اپنی ہتھیلیوں ( کی پشتوں) پر اور چہرے پر ایک ایک دفعہ پھیر دیا۔ لیکن سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: یقینا، میں نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر ؓ نے اس پر قناعت کی ہو، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: تو پھر آپ سورۂ نساء والی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ اس مقام پر سیدنا عبد اللہ ؓ کو کوئی جواب نہ آیا، البتہ انھوں نے یہ کہا: اگر ہم ان کو تیمم کی رخصت دیں تو قریب ہے کہ جب کسی کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ تیمم کرے گا۔
حدیث نمبر: 983
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَهْرًا أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ؟ قَالَ: لَا، وَلَوْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ) قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ؟ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ (وَفِيهِ) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً: قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا ابو موسی ؓاور سیدنا عبد اللہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی کو (غسل کے لیے) پانی نہیں ملتا، جبکہ وہ ایک مہینہ سے جنبی ہے، کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اگرچہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ پھر سابق حدیث کی مانند حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: کیا آپ نے سیدنا عمار ؓکی بات نہیں سنی؟ وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا، پس میں جنبی ہو گیا اور غسل کے لیے پانی نہ ملا، پس میں جانور کی طرح مٹی میں لیٹا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے تو یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ہر ہاتھ کو دوسرے پر پھیرا اور دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیا۔ اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ایک دفعہ ابو معاویہ نے یہ طریقہ یوں بیان کیا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور دائیں کو بائیں پر ہتھیلیوں پر پھیرا اور پھر اپنے چہرے پر پھیر لیا۔
حدیث نمبر: 984
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: إِنْ لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ لَا نُصَلِّ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: نَعَمْ، إِنْ لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ نُصَلِّ، وَلَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَٰذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ، قَالَ هَٰكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو موسی ؓ نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے کہا: اگر ہمیں پانی نہ ملے (جبکہ ہم جنبی ہوں) تو کیا نماز نہیں پڑھیں گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اگر ایک ماہ تک بھی پانی نہ ملے تو ہم نماز نہیں پڑھیں گے، اگر میں اس معاملے میں لوگوں کو رخصت دے دوں تو جو کوئی آدمی سردی محسوس کرے گا، وہ تیمم کر کے نماز پڑھنا شروع کر دے گا۔ سیدنا ابو موسیؓ نے کہا: تو پھر وہ بات کہاں جائے گی جو سیدنا عمار ؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہی تھی؟ انھوں نے کہا: وہ تو سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمارؓ کے قول پر قناعت ہی نہیں کی تھی۔
حدیث نمبر: 985
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ لَا نَجِدُ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! تَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا بِمَكَانِ كَذَا كَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ فَتَعْلَمُ أَنَّنَا أَجْنَبْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي تَمَرَّغْتُ بِالْتُّرَابِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: ((كَانَ الصَّعِيدُ كَافِيَكَ)) وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ، يَا عَمَّارُ! قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ مَا عِشْتُ أَوْ مَا حَيِيْتُ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن ابزی کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ؓ کے پاس تھے، پس آپؓ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم ایک ایک اور دو دو ماہ ٹھہرتے ہیں اور پانی نہیں پاتے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: رہا مسئلہ میرا، تو میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھوں گا، جب تک مجھے پانی نہیں ملے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمار ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو یاد ہو گا کہ جب ہم فلاں جگہ پر اونٹ چرا رہے تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمار ؓ نے کہا: پس میں مٹی میں لیٹا تھا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر یہ بات ذکر کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے تھے اور فرمایا تھا: تجھے مٹی ہی کافی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور ان کو اپنے چہرے اور بازوؤں کے بعض حصوں پر پھیر دیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے عمار! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: اے امیرے المؤمنین! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں زندگی بھر یہ چیز بیان نہیں کروں گا، سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! تم جس چیز کی ذمہ داری خودلینا چاہتے ہو، ہم تم کو اس کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 986
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ: ((ضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهِ)) (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ: ((ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیمم کے بارے میں سوال کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہتھیلیوں اور چہرے کے لیے ایک ضرب ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیمم کے بارے میں فرمایا: چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے ایک ضرب ہے۔
حدیث نمبر: 987
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے ابن عباس عمیر کہتے ہیں: میں اور مولائے میمونہ عبد اللہ بن یسار گئے اور سیدنا ابو جہیم بن حارث انصاری پر داخل ہوئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بئرِ جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا اور پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔