حدیث نمبر: 972
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ هَٰذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي)) قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ تُصَلِّي، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ؓ، جو سیدنا عبد الرحمن بن عوف ؓکی بیوی تھیں، کو سات سال سے استحاضہ کا خون آ رہا تھا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو کسی رگ کامسئلہ ہے، جب حیض آ جائے تو تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھا کر۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرتی تھیں اور اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر چڑھ آتی تھی۔
حدیث نمبر: 973
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) إِنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، قَالَ: ((إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي)) فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَمْ يَأْمُرْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، إِنَّمَا فَعَلَتْهُ هِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوی پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی رگ کا مسئلہ ہے، پس تو غسل کر اور نماز پڑھ۔ پس یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، ابن شہاب نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، یہ خود ایسا کرتی تھیں۔