کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
حدیث نمبر: 964
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: ((خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا)) قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ: ((تَوَضَّئِي بِهَا)) قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ: ((تَوَضَّئِي بِهَا)) قَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طہارت حاصل کرتے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر۔ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ وہ پھر کہنے لگی: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا اور اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد سمجھ گئی، اس لیے میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا اور سمجھا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو کیا فرمانا چاہ رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت مختصر ہے، اگلی روایت میں تفصیل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ جب عورت حیض سے فارغ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ پر کستوری جیسی خوشبو لگائے تاکہ خون کی بدبو ختم ہو جائے اور مزاج کے اندر نفاست آ جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 964
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 315، ومسلم: 332 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25419»
حدیث نمبر: 965
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْمُهَاجِرِ قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ، قَالَ: تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى يَبْلُغَ شُعُورَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا)) قَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ! تَطَهَّرِي بِهَا)) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ: تَتَبَّعِي أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، قَالَ: ((تَأْخُذِي مَاءَكِ فَتَطَهَّرِينَ فَتُحْسِنِينَ الطُّهْرَ أَوْ أَبْلِغِي الطُّهْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُعُورَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ)) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 965
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25660»
حدیث نمبر: 966
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا ذُكِرَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمَدْنَ إِلَى حُجَزِ أَوْ حُجُوزِ مَنَاطِقِهِنَّ فَشَقَقْنَهَا ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْهَا خُمُرًا، وَإِنَّهَا دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرِينِي عَنِ الطُّهْرِ مِنَ الْحَيْضِ، فَقَالَ: ((نَعَمْ، لِتَأْخُذَ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا … )) فَذَكَرَتْ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، … … ۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 966
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه شطره الاول البخاري: 4758، 4759، ورواه بتمامه ومختصرا ابوداود: 315، 4100 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26067»