کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل¤ہونے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 954
عَنْ مَنْبُوذٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ، قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ! وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ، أَيْ بُنَيَّ! وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام منبوذ کہتی ہیں: میں سیدہ میمونہؓ کے پاس تھی، سیدنا ابن عباسؓ ان کے پاس آئے، انھوں نے ان سے پوچھا: میرے بیٹے! کیا وجہ ہے کہ تیرا سر پراگندہ ہے؟ انھوں نے کہا: ام عمار میرے سر کی کنگھی کرتی تھیں اور وہ آج کل حائضہ ہیں۔ سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس آتے، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے، اسی طرح وہ کھڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چٹائی آپ کے لیے مسجد میں بچھاتی، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟
حدیث نمبر: 955
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حَجْرِي (وَفِي رِوَايَةٍ: يَتَّكِئُ عَلَيَّ) وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ میری گود میں اپنا سر رکھتے، ایک روایت میں ہے: میرے ساتھ ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
حدیث نمبر: 956
وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک روایت میں ہے: سیدہؓ کہتی ہیں:رسول اللہ میری گود میں ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
حدیث نمبر: 957
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ: ((نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ)) مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَحْدَثْتُ، فَقَالَ: ((أَوَ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد سے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ انھوں نے کہا: میں تو حائضہ ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں ہے؟
حدیث نمبر: 958
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ)) مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ: ((إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد سے مجھے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ میں نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 959
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ: ((نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ)) قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّي عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: ((إِنَّ حَيْضَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تھے، لونڈی سے کہا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس کا حیض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔