کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 937
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کر لیتے تھے، جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حصے کو استعمال کرنے سے مراد بوس و کنار اور چھونا وغیرہ ہے، شادی شدہ لوگ سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 938
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 939
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ تَأْتَزِرُ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو حکم دیتے کہ وہ ازار باندھ لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے جسم کے ساتھ جسم ملاتے۔
حدیث نمبر: 940
عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ وَيَدْخُلُ مَعِيَ فِي لِحَافِي وَأَنَا حَائِضٌ وَلَكِنْ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے جسم کے ساتھ جسم ملاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور آپ میرے لحاف میں میرے ساتھ داخل ہو جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی شرمگاہ پر زیادہ کنٹرول کرنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 941
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي، وَكُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیتے کہ میں ازار باندھ لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ لیٹ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 942
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بچھونے پر سوتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن مجھ پر کپڑا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 943
عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَأَنَا حَائِضٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے معانقہ کرتے تھے اور میرے سر پر بوسہ وغیرہ دیتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 944
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے اور اپنے سر مبارک کو میری طرف جھکاتے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 945
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُبَاشِرُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: ((لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ازار سے اوپر والا حصہ استعمال کر سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد اس شخص کے بارے میں ہے، جو حائضہ بیوی کے جسم کے ساتھ جسم ملاتا ہے۔
حدیث نمبر: 946
عَنْ مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں میں سے حائضہ کے جسم کے ساتھ جسم ملا لیا کرتے تھے، جبکہ اس پر (کم از کم) ایسا ازار ہوتا جو نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پہنچ جاتا تھا، وہ اس سے (مخصوص جگہ کو) محفوظ کر لیتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید میں ہے: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ} (البقرۃ: ۲۲۲) اور وہ تجھ سے حیض کے بارے پوچھے ہیں۔ کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے۔ پس حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اس آیت کو سامنے رکھ کر کچھ لوگ اس باب کے تحت آنے والی احادیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں آ رہا ہے کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو۔ جب کہ احادیث باب سے عورتوں کے ساتھ میل جول اور ان کے ساتھ مباشرت (ساتھ لیٹنا، جسم کے ساتھ جسم ملانا) ثابت ہو رہا ہے جو کہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اس لیے اس احادیث جو قرآن کے خلاف ہوں ان کو ایسے صحیح کہا جا سکتا ہے۔ حالانکہ باب کے تحت آنے والے احادیث سے آیت کا مفہوم واضح ہو رہا ہے کہ حائض سے میل ملاقات اور اس کے ساتھ لیٹ جانا منع نہیں بلکہ اس کے قریب نہ جانے سے مراد جماع نہ کرنا ہے۔ اور اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جو انسؓ سے مروی ہے کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ اکٹھے رہتے۔ صحابہ کرام نے اس بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ} (اس کا ترجمہ شروع ذکر کیا گیا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔ (مسلم: ۳۰۲) معلوم ہونا مذکورہ الصدر آیت اور احادیث باب کے درمیان کوئی تعارض نہیں بلکہ یہ احادیث کے اندر کیڑے تلاش کرنے والوں کی ذہنی اختراع ہے اور بس۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 947
عَنِ ابْنِ قُرَيْظَةَ الصَّدَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاجِعُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارِي وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِذْ ذَاكَ إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اعْتَزَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: جب آپ حائضہ ہوتی تھیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب میں ازار کو اپنے اوپر کس لیتی تھی اور اس وقت سرے سے ہمارا بچھونا ہی ایک تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بچھونا دے دیاتھا تو میں اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے الگ ہو جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 948
عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا: كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ؟ فَقَالَتْ: كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا، اتَّزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهَا وَنَحْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں: میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا اور میں نے سوال کیا: جب تم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تھی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کیا کرتی تھی؟ انھوں نے کہا: جب ہم میں سے کوئی اس حالت میں ہوتی تھی تو وہ کھلا سا ازار باندھ لیتی تھی اور اپنے ہاتھوں اور سینے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چمٹ جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 949
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ: ((أَنَفِسْتِ؟)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَجَدْتُّ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ: ((ذَاكِ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ)) قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں میں اس وقت حائضہ ہو گئی، جب میں اوررَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں تھے، پس میں کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں اسی چیز میں مبتلا ہو گئی ہوں، جس میں خواتین ہو جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز تو پھر بناتِ آدم پر لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال میں چلی گئی اور اپنی حالت کو سنوار کر ایک کپڑے سے لنگوٹ کس لیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لحاف میں آ کر لیٹ گئی۔
حدیث نمبر: 950
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِي: ((أَحِضْتِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ ثُمَّ عُودِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔
حدیث نمبر: 951
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُدَيَّةَ قَالَتْ: أَرْسَلَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا قِرَابَةٌ، فَرَأَيْتُ فِرَاشَهَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَهُ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِهِجْرَانٍ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: لَا وَلَكِنِّي حَائِضٌ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَرَدَّتْنِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ الْحَائِضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا ثَوْبٌ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔