کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہوجانے کے قائلین کا بیان
حدیث نمبر: 833
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَمَرُونِي بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث منسوخ ہو گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 833
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 179، ومسلم: 347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 458»
حدیث نمبر: 834
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا أَبِي أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ (الْأَنْصَارِيُّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُبَيَّا حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: الرَّجُلُ يُجَامِعُ أَهْلَهُ فَلَا يُنْزِلُ؟ قَالَ: ((يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابیؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی شرمگاہ کا جو حصہ عورت کو لگا ہے، وہ اس کو دھو لے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 834
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 293، ومسلم: 346 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21403»
حدیث نمبر: 835
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ لَهُ: (لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ؟) قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ((إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، عَلَيْكَ الْوُضُوءُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ باہر آیا تو اس کے سر سے (غسل کی وجہ سے) پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں ڈال دیا جائے یا انزال نہ ہو تو تجھ پر کوئی غسل نہیں ہو گا، ایسی صورت میں وضو کیا کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 835
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 180، ومسلم: 345 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11179»
حدیث نمبر: 836
وَعَنْهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَنِي عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ)) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 343، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11454»
حدیث نمبر: 837
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ (الْأَنْصَارِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے استعمال کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مباشرت کے دوران جب تک انزال نہیں ہو گا، اس وقت تک محض شرمگاہوں کے ٹکرانے سے یا دخول سے جنابت کا غسل فرض نہیں ہو گا۔ لیکن یہ رخصت منسوخ ہو چکی ہے، نئے حکم کی وضاحت اگلے دو ابواب میں آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 837
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 607، والنسائي: 1/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23972»