کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 809
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: قَعَدْتُ مَقْعَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کو مقاعد میں دیکھا، انھوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوا کر کھایا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔پھر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر بیٹھا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا کھایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی نماز پڑھائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 809
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 376، وعبد الرزاق: 643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 505»
حدیث نمبر: 810
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نیا وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 810
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه عبد الرزاق: 637، وابويعلي: 2734، والطبراني: 11267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1994»
حدیث نمبر: 811
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ إِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِيًّا وَإِمَّا كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کا بھونا ہوا بازو یا کندھے کا گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نہ نیا وضو کیا اور نہ پانی کو چھوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 811
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2286»
حدیث نمبر: 812
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ابو رافعؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 812
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 357 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24356»
حدیث نمبر: 813
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ نے اسی قسم کی ایک حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 813
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 1829، والنسائي: 1/ 108 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27157»
حدیث نمبر: 814
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بُسِطَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ثُمَّ دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَهَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عمر کہتے ہیں: میں جمعہ کے اگلے دن سیدنا ابن عباسؓ کے پاس گیا، جو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں تھے، سیدہ نے ان کے لیے اس گھر کی وصیت کی تھی، جب وہ نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو ان کے لیے اس گھر میں چٹائی وغیرہ بچھا دی جاتی، پس وہ اس گھر کی طرف چلے جاتے اور لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے۔ ایک دن ایک بندے نے ان سے آگ پر پکے ہوئے کھانے سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، جبکہ اِس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے، اور کہا: میری ان آنکھوں نے دیکھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی حجرے میں وضو کیا، پھر سیدنا بلالؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا اور آپ نکل پڑے، لیکن جب حجرے کے دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روٹی اور گوشت کا ہدیہ وصول ہوا، جو کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ والے صحابہ کے ساتھ واپس لوٹ گئے، حجرے میں یہ کھانا لگایاگیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی نے پانی کو چھوا تک نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا ابْنِ عَبَّاسٍؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری عمل کو پایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه مختصرا جدا مسلم: 354 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2377»
حدیث نمبر: 815
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ (وَفِي لَفْظٍ) فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَطَرَحَ السِّكِّينَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن امیہ ضمریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکری کے کندھے سے (چھری کے ساتھ) گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری پھینک دی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 208، 2923، 5408، ومسلم: 355 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17382»
حدیث نمبر: 816
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوشت کھایا اور پھر نماز کی طرف کھڑے ہوئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 5274 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3793»
حدیث نمبر: 817
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّ أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ، قَالَ: وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباسؓ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے، ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے کس چیز سے وضو کرنا ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا۔ سلیمان ان دونوں شخصیتوں کے پاس موجود تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 108 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3464»
حدیث نمبر: 818
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّوْا وَلَمْ تَوَضَّئُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمرؓ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، پھر ان سب نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 818
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 192، والنسائي: 1/ 108، وابن ماجه: 489 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14312»
حدیث نمبر: 819
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا (قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَمَامَنَا) جَفْنَةٌ، فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: روٹی اور گوشت پر مشتمل کھانا رسو ل اللّٰہُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا)، پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا او رنمازِ ظہر ادا کی، پھر واپس آ کر بچا ہوا کھانا منگوایا اور اس کو تناول فرمانے کے بعد پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا، پھر میں سیدنا عمر ؓ کے ساتھ داخل ہوا، ان کے لیے یہاں ہمارے سامنے ایک بڑا پیالَہُ رکھا گیا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، وہ پیالَہُ یہاں رکھا گیا تھا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، پس سیدنا عمر ؓ نے یہ کھانا کھایا اور پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 819
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 191، وانظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14507»
حدیث نمبر: 820
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نُعْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّحْبَاءِ وَصَلَّى الْعَصْرَ دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ، فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ وَمَا مَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سوید بن نعمان ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر والے سال رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم صہباء مقَامَ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی اور کھانا طلب کیا، صرف ستو لایا گیا، لوگوں نے کھایا اور پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلی کر کے نمازِ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے بھی کلی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضو کے لیے) پانی کو چھوا تک نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 820
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 209، 4195 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15893»
حدیث نمبر: 821
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَٰذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: میں، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھایا، پھر میں (انس) نے وضو کیلئے پانی منگوایا، ان دونوں نے مجھے کہا: تم کیوں وضو کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے، انھوں نے کہا: کیا تم پاکیزہ چیزیں کھانے کی وجہ سے وضو کرتے ہو؟ اس ہستی نے تو اس قسم کے کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا، جو تم سے بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وضو کرنے یا نہ کرنے کا تعلق پاکیزہ چیزوں سے نہیں تھا، شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کرتے تھے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو ترک کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 821
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 27، والطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 69 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21499»
حدیث نمبر: 822
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِوَاءً فِي الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَدْخَلْنَا أَيْدِيَنَا فِي الْحَصَى ثُمَّ قُمْنَا نُصَلِّي وَلَمْ نَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھونا ہوا گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں کے ساتھ ملے اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17854»
حدیث نمبر: 823
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: ((وَرَاءَكَ)) فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُهُ فَعَلَ ذَلِكَ النَّاسُ بَعْدِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر وضو کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 823
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 48، والطبراني في الكبير : 20/ 1008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18406»
حدیث نمبر: 824
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةً فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَهُ شَيْئًا مِنْ بَطْنِهَا فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رافعؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک بکری ذبح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق ہم نے اس کے پیٹ کا کوئی حصہ پکایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 357 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24356»
حدیث نمبر: 825
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْقِدْرَ فَيَأْخُذُ الذِّرَاعَ مِنْهَا فَيَأْكُلُهَا ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنڈیا کے پاس تشریف لاتے، اس سے دستی نکال کر تناول فرماتے اور پھر نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 825
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 50، وابويعلي: 4449، والبزار: 298 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26828»
حدیث نمبر: 826
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ: تَوَضَّأُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: نَهَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي كَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں: جب سیدنا ابوہریرہؓ نے مروان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔ مروان نے یہ سن کر سیدہ ام سلمہؓ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: میرے پاس تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھے کا گوشت نوچا اور نماز کی طرف چلے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 826
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 48، وابويعلي: 7005، والطبراني في الكبير : 23/ 628، والنسائي في الكبري : 6656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27147»
حدیث نمبر: 827
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے ابن عباس کریب بیان کرتے ہیں کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے کندھے سے گوشت تناول فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور نیا وضو کیے بغیر نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 827
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 189، وابن ماجه: 488 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2406»
حدیث نمبر: 828
عَنْ فَاطِمَةَ (الزَّهْرَاءِ) بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ عَرْقًا فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّي فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ! أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: ((مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ؟)) فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لِي: ((أَوَلَيْسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ فاطمہ زہراءؓ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی پر لگاہوا گوشت کھایا، اتنے میں سیدنا بلالؓ نماز کیلئے بلانے کیلئے آ گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے کو پکڑ کر کہا: اے ابو جان! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! کس چیز سے میں وضو کروں؟ میں نے کہا: آگ پر پکے ہوئے کھانے کو کھانے سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارا سب سے پسندیدہ کھانا وہی نہیں ہے، جس کو آگ پر پکایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 828
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن بن الحسن بن علي بن ابي طالب لم يدرك جدته فاطمهؓ، ومحمد بن اسحاق مدلس، واختلف عليه۔ أخرجه ابويعلي: 6740 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26950»
حدیث نمبر: 829
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ أُمِّ عَامِرٍ بِنْتِ يَزِيدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِي مَسْجِدِ فُلَانٍ فَتَعَرَّقَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عامرؓ، جو کہ بیعت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسجد میں ہڈی والا گوشت لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نوچا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 829
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 25/ 357 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27639»
حدیث نمبر: 830
عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَنَهَسَ مِنْ كَتِفٍ عِنْدَهَا ثُمَّ صَلَّى وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام حکیم بنت زبیر بن عبد المطلبؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ضباعہ بن زبیر کے پاس گئے اور ان کے ہاں کندھے سے نوچ کر گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 830
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا اسناد اختلف فيه علي قتادة بن دعامة السدوسي طب۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 25/ 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27898»
حدیث نمبر: 831
عَنْ ضَبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلبؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 831
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترك الوضوء مما مست النار صحيح، وھذا اسناد اختلف عليه۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 25/ 214 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27631»
حدیث نمبر: 832
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ فَمَضْمَضَ وَغَسَلَ يَدَهُ وَصَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا، پھر کلی کی اور ہاتھ دھوئے اور پھر نماز پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا عمل یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیزوں سے وضو کرتے تھے، لیکن آخری عمل کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ وضو کرنا ترک کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 832
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 493 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9037»