کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
حدیث نمبر: 804
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 804
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 353 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25087»
حدیث نمبر: 805
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَائَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ وَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن طحلاء کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ سے کہا: تمہارے رضاعی باپ سُلَیم آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہیں کرتے، یہ سن کر انھوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ پر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دیتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 805
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 924 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27260»
حدیث نمبر: 806
عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ زِيَادَةُ وَكَانَتْ خَالَتَهُ) فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي! أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، أَوْ غَيَّرَتِ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سفیان بن سعید بن مغیرہ، زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، جو کہ ان کی خالَہُ تھیں، انھوں نے ان کو ستو کا پیالَہ پلایا، پھر انھوں نے پانی منگوا کر کلی کی، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! کیا تم وضو نہیں کرو گے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس سے وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 806
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 195، والنسائي: 1/ 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27309»
حدیث نمبر: 807
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ لَهُ: تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أُخْتِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو سفیان، سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، انھوں نے اس کو ستو پلائے، وہ ستو پی کر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، لیکن سیدہ نے کہا: بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس چیز کو آگ نے چھوا ہے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 807
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27319»
حدیث نمبر: 808
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: قَالَ: قَالَتْ لِي: أَيْ بُنَيَّ! لَا تُصَلِّيَنَّ حَتَّى تَتَوَضَّأَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدہ نے کہا: پیارے بیٹے! اس وقت تک ہر گز نماز نہ پڑھو، جب تک وضو نہ کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس کھانے کو آگ پر پکایا جائے، ہم ا سے کھا کر وضو کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 808
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27321»