کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: طاہر اور خارجی چیز کے ملنے کی وجہ سے بدل جانے والے پانی کا حکم
حدیث نمبر: 387
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَأَتَيْتُهُ، فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَسَتَرَهُ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَذَلِكَ فِي الضُّحَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر اترے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک ٹب لے آئے، مجھے اس میں آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پردہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعتیں ادا کیں، یہ چاشت کا وقت تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 387
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة ابي ذر مع النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، فان المطلب بن عبد الله بن حنطب كثير التدليس والارسال، وھو لم يلق ام ھانيء ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 24/ 987، وفي الاوسط : 731، وھو في الصحيح خلا قصة ابي ذر وستر كل واحد منھما الآخر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27425»
حدیث نمبر: 388
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن سے غسل کیا، اس میں آٹے کے نشانات تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ میمونہ ؓکا اکٹھا غسل کرنا، یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور سیدہ میمونہ ؓسے مروی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آٹے کے نشانات والے برتن سے غسل کرنا، یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے اور سیدہ ام ہانی ؓسے مروی ہے۔ ہم نے حدیث نمبر (۳۶۲)کی شرح میں مائے مطلق اور مائے نسبتی کے موضوع پر بحث کی ہے، وہاں اس حدیث کا ذکر بھی کیا ہے، محولہ مقام کی طرف رجوع کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، لكن ھو في الحقيقة حديثان جمعا معا، وانظر شرح ھذا الحديث ۔ أخرجه ابن ماجه: 378 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27434»