کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس معاملے میں رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 384
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ مِنْهَا فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ اغْتَسَلْتُ مِنْهَا، فَقَالَ: ((إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ الْجَنَابَةُ)) أَوْ ((لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ)) فَاغْتَسَلَ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”مجھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت لاحق ہو گئی، پس میں نے ایک ٹب سے غسل کیا اور کچھ پانی بچ گیا، پس جب رسول اللہ غسل کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میں نے اس پانی سے (جنابت والا) غسل کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اس سے پانی پر جنابت کا حکم نہیں آتا۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز پانی کو پلید نہیں کرتی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 384
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابويعلي: 7098، والطبراني في الكبير : 23/ 1030، والدارقطني: 1/ 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27338»
حدیث نمبر: 385
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهَا فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے غسل جنابت کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، پس جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 385
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 68، والنسائي: 1/ 173، وابن ماجه: 370، والترمذي: 65 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2102»
حدیث نمبر: 386
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اِن واضح احادیث کی روشنی میں پچھلے باب کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مزید کچھ روایات درج ذیل بھی ہیں:سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ((کَانَ یُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ الْمَعِیْنُ)) … نظر لگانے والے کو وضو کرنے کا حکم دیا جاتا، پھر اس پانی سے وہ آدمی غسل کرتا، جس کو نظر لگی ہوتی تھی۔ (ابوداود: ۳۸۸۰)
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 386
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27337»