حدیث نمبر: 85
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُهَا وَأَعْلَاهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں سب سے بلند اور عالی شعبہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 86
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے پچھتر چھہتر شعبے ہیں، ان میں افضل شعبہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا اعمال کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے، حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ شعبے کون سے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: قاضی عیاض کہتے ہیں: بعض علماء و فقہاء نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق ان شعبوں کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال کسی کے اجتہاد کے حق میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حدیث کے مرادی معانی کے عین مطابق ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان شعبہ جات کی تفصیل کا علم نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔
(میں ابن حجر کہتا ہوں:)ان شعبوں کا تعین کرنے والے کسی ایک انداز پر جمع نہ ہو سکے، البتہ امام ابن حبان کا طریقہ اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: یہ شعبے اپنے مصدور و منبع کے لحاظ سے تین قسم کے اعمال منقسم ہوتے ہیں۔
(۱) قلبی اعمال (۲)قولی اعمال اور (۳) بدنی اعمال
قلبی اعمال میں اعتقادات اور نیّات داخل ہیں، جو درج ذیل چوبیس خصلتوں پر مشتمل ہیں: اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی ذات کی خاطر کسی سے محبت یا نفرت، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور آپ کی تعظیم اور آپ کی سنت کی پیروی بھی داخل ہے، اخلاص (اس میں ریاکاری و نفاق کو ترک کرنا بھی داخل ہے)، توبہ، خوف، رجا، شکر، وفا، صبر، رضا بالقضا، توکل، رحمت، تواضع، تکبر اور عجب کو ترک کرنا، حسد اور کینہ ترک کرنا اور غیظ و غضب کو ترک کرنا۔
قولی اعمال سات اجزاء پر مشتمل ہیں: توحید کا اقرار، تلاوتِ قرآن، علم شرعی سیکھنا اور سکھانا، دعا، ذکر و استغفار، لغو سے اجتناب۔
بدنی اعمال اڑتیس خصائل پر مشتمل ہیں: ان میں سے درج ذیل پندرہ اعیان کے ساتھ خاص ہیں: حسی اور حکمی طہارت (نجاستوں سے اجتناب کا تعلق بھی اسی شقّ کے ساتھ ہے)، پردہ، فرضی و نفلی نماز، فرضی و نفلی صدقہ و زکوۃ، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت، نفلی و فرضی روزے، حج و عمرہ، طواف، اعتکاف، شب ِ قدر کی تلاش، دین کی حفاظت، نذر پورا کرنا، بہتر قسم کا انتخاب اور کفاروں کی ادائیگی۔
درج ذیل چھ کا تعلق اتباع سے ہے: نکاح اور اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تربیت ِ اولاد، صلہ رحمی، آقاؤں کی اطاعت اور غلاموں سے نرمی۔
اور درج ذیل سترہ امور عوام الناس سے متعلقہ ہیں: عدل والی امارت کا قیام، جماعت کی پیروی، امراء کی اطاعت، لوگوں کے مابین اصلاح کروانا، نیکی والے امور پر معاونت، نفاذِ حدود، جہاد، ادائیگی ٔ امانت، قرضہ چکانا، پڑوسی کی عزت کرنا، حسنِ معاملہ، مال کو اس کے مناسب مقام پر خرچ کرنا، سلام کا جواب، چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا، لوگوں کو تکلیف نہ دینا، لغو سے اجتناب کرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ یہ کل انہتر خصائل ہیں، اگر بعض امور کو بعض میں ضم نہ کیا جائے تو ان کی تعداد اناسی بن سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۲)
یہ حدیث مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال، ایمان کا جز ہیں، اس حدیث سے مرجئہ جیسے باطل فرقوں کا ردّ ہو تا ہے جنہوں نے اعمال صالحہ کو ایمان کی حقیقت سے خارج کر دیا، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ممکن ہے، کیونکہ ان تمام شعبوں اور شاخوں پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے میں مسلمانوں میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔
انسانیت کو کسی قسم کی تکلیف اور نقصان وغیرہ سے بچانا، اتنا عظیم عمل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی وقت کی بات ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس راستے پر جھکی ہوئی ایک کانٹے دار شاخ تھی (جس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی) اس آدمی نے اسے کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ (بخاری: ۶۵۲، مسلم: ۱۹۱۴) عصر حاضر میں اس بابرکت عمل کے بر عکس بالعموم اور بالخصوص شادی بیاہ کے موقع پر گزرگاہوں کو تنگ یا بند کر دیا جاتا ہے یا بعض دوکاندار اور کوٹھیوں کے مالک تجاوزات سے کام لیتے ہیں یا بعض اوباش کھیلنے اور مجلس لگانے کیلئے سڑکوں کا انتخاب کرتے ہیں، ان تمام قابل مذمت حرکتوں سے گزرنے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن) یہ حرکتیں اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب اور اخلاقی پستی کی آئینہ دارہیں۔
(میں ابن حجر کہتا ہوں:)ان شعبوں کا تعین کرنے والے کسی ایک انداز پر جمع نہ ہو سکے، البتہ امام ابن حبان کا طریقہ اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: یہ شعبے اپنے مصدور و منبع کے لحاظ سے تین قسم کے اعمال منقسم ہوتے ہیں۔
(۱) قلبی اعمال (۲)قولی اعمال اور (۳) بدنی اعمال
قلبی اعمال میں اعتقادات اور نیّات داخل ہیں، جو درج ذیل چوبیس خصلتوں پر مشتمل ہیں: اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی ذات کی خاطر کسی سے محبت یا نفرت، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور آپ کی تعظیم اور آپ کی سنت کی پیروی بھی داخل ہے، اخلاص (اس میں ریاکاری و نفاق کو ترک کرنا بھی داخل ہے)، توبہ، خوف، رجا، شکر، وفا، صبر، رضا بالقضا، توکل، رحمت، تواضع، تکبر اور عجب کو ترک کرنا، حسد اور کینہ ترک کرنا اور غیظ و غضب کو ترک کرنا۔
قولی اعمال سات اجزاء پر مشتمل ہیں: توحید کا اقرار، تلاوتِ قرآن، علم شرعی سیکھنا اور سکھانا، دعا، ذکر و استغفار، لغو سے اجتناب۔
بدنی اعمال اڑتیس خصائل پر مشتمل ہیں: ان میں سے درج ذیل پندرہ اعیان کے ساتھ خاص ہیں: حسی اور حکمی طہارت (نجاستوں سے اجتناب کا تعلق بھی اسی شقّ کے ساتھ ہے)، پردہ، فرضی و نفلی نماز، فرضی و نفلی صدقہ و زکوۃ، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت، نفلی و فرضی روزے، حج و عمرہ، طواف، اعتکاف، شب ِ قدر کی تلاش، دین کی حفاظت، نذر پورا کرنا، بہتر قسم کا انتخاب اور کفاروں کی ادائیگی۔
درج ذیل چھ کا تعلق اتباع سے ہے: نکاح اور اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تربیت ِ اولاد، صلہ رحمی، آقاؤں کی اطاعت اور غلاموں سے نرمی۔
اور درج ذیل سترہ امور عوام الناس سے متعلقہ ہیں: عدل والی امارت کا قیام، جماعت کی پیروی، امراء کی اطاعت، لوگوں کے مابین اصلاح کروانا، نیکی والے امور پر معاونت، نفاذِ حدود، جہاد، ادائیگی ٔ امانت، قرضہ چکانا، پڑوسی کی عزت کرنا، حسنِ معاملہ، مال کو اس کے مناسب مقام پر خرچ کرنا، سلام کا جواب، چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا، لوگوں کو تکلیف نہ دینا، لغو سے اجتناب کرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ یہ کل انہتر خصائل ہیں، اگر بعض امور کو بعض میں ضم نہ کیا جائے تو ان کی تعداد اناسی بن سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۲)
یہ حدیث مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال، ایمان کا جز ہیں، اس حدیث سے مرجئہ جیسے باطل فرقوں کا ردّ ہو تا ہے جنہوں نے اعمال صالحہ کو ایمان کی حقیقت سے خارج کر دیا، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ممکن ہے، کیونکہ ان تمام شعبوں اور شاخوں پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے میں مسلمانوں میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔
انسانیت کو کسی قسم کی تکلیف اور نقصان وغیرہ سے بچانا، اتنا عظیم عمل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی وقت کی بات ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس راستے پر جھکی ہوئی ایک کانٹے دار شاخ تھی (جس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی) اس آدمی نے اسے کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ (بخاری: ۶۵۲، مسلم: ۱۹۱۴) عصر حاضر میں اس بابرکت عمل کے بر عکس بالعموم اور بالخصوص شادی بیاہ کے موقع پر گزرگاہوں کو تنگ یا بند کر دیا جاتا ہے یا بعض دوکاندار اور کوٹھیوں کے مالک تجاوزات سے کام لیتے ہیں یا بعض اوباش کھیلنے اور مجلس لگانے کیلئے سڑکوں کا انتخاب کرتے ہیں، ان تمام قابل مذمت حرکتوں سے گزرنے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن) یہ حرکتیں اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب اور اخلاقی پستی کی آئینہ دارہیں۔
حدیث نمبر: 87
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَلَى جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ، وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلَا تَتَفَرَّجُوا، وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ جَوْفِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ يَفْتَحُ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ، وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللَّهِ تَعَالَى وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللَّهِ تَعَالَى وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالدَّاعِي فَوْقَ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللَّهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس راستے کے دونوں اطراف میں دو دیواریں ہیں، جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے دروازے پر ایک داعی یہ کہہ رہا ہے: لوگو! سارے کے سارے راستے میں داخل ہو جاؤ اور اس سے زائل نہ ہو جاؤ اور جب کوئی آدمی کسی دروازے کو کھولنا چاہتا ہے تو راستے کے بیچ میں سے ایک داعی یوں آواز دیتا ہے: تو ہلاک ہو جائے، اس کو نہ کھول، اگر تو نے اس کو کھول دیا تو اس میں گھس جائے گا۔ (اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ) راستہ، اسلام ہے اور دیواریں، اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں اور کھلے دروازے، اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور ہیں اور راستے کے سرے پر داعی، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔“
حدیث نمبر: 88
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ، وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، فَالْأَبْوَابُ الَّتِي عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ لَا يَقَعُ أَحَدٌ فِي حُدُودِ اللَّهِ حَتَّى يَكْشِفَ سِتْرَ اللَّهِ، وَالَّذِي يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا نواس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس کی دونوں جانبوں میں دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے لٹک رہے ہیں اور ایک داعی راستے کے سرے پر ہے اور ایک داعی بندے کے اوپر اوپر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی والے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، راستے کے دونوں جانبوں میں جو دروازے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کے پردے کو چاک نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اس کی حدوں میں نہیں گھستا اور جو داعی اوپر سے بلا رہا ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … مثال واضح ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود اور حرام کردہ امور کے قریب نہ جایا جائے، وگرنہ ایمان کے ناقص ہو جانے کا یا اس سے محروم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔ یہ قانون اس شخص کے لیے ہے جو اسلام کے حلال و حرام کا اجمالی علم رکھتا ہو، سنجیدہ مزاج ہو، آخرت کی فکر کرنے والا ہو اور برائیوں کے ذریعے اپنے نفس کو غیر معیاری نہ بنا چکا ہو۔