کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
حدیث نمبر: 77
عَنْ أَبِي سُوَيْدٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ فَفَطِنَ بِي، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَيُّكُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ)) قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سوید عبدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا: ”تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟“ میں نے کہا: ”میں تھا،“ انہوں نے کہا: ”تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟“ میں نے کہا: ”ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا،“ پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرنے لگ گئے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ میں نے کہا: ”اے ابو عبدالرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 77
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال بركة بن يعلي التيمي وشيخِه ابي سويد العبدي، وھما من رجال التعجيل ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5672»
حدیث نمبر: 78
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْجِهَادُ حَسَنٌ، هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد؟“ انہوں نے کہا: ”جہاد اچھی چیز ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حدیث ایسے بیان کی تھی۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 78
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فيه علتان: انقطاعه، لأن سالما لم يسمعه من يزيد، وجھالة حال يزيد بن بشر السكسكي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4798»
حدیث نمبر: 79
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا متن مشہور ہے اور تقریباً ہر خاص و عام کو یاد بھی ہے، کاش! ہمارے اندر عملی رجحان بھی پیدا ہو جاتا اور ہم اسلام کے ان پانچ ستونوں کو تعمیر کر کے اپنے سروں پر اسلام کی چھت کا سایہ کر لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 79
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 7507، والطبراني في الكبير : 2364، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19439»
حدیث نمبر: 80
عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ فِي الْإِسْلَامِ فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُغْنِينَ عَنْهُ شَيْئًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا، الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَحَجُّ الْبَيْتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زیاد بن نعیم حضرمی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ ان سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 80
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، ثم ان الحديث مرسل، فان زياد بن نعيم الحضرمي تابعي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17942»
حدیث نمبر: 81
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّى يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔“
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 81
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 2145، وابن ماجه: 81 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 758»
حدیث نمبر: 82
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَنْ يُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو گا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس چیز پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے، وہ اچھی ہو یا بری۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ چار امور دوسرے اعتقادات اور ایمانیات کو بھی مستلزم ہیں، مثلا: سابقہ انبیاء و رسل پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تمام ہدایات کو بھی تسلیم کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 82
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 2145، وابن ماجه: 81 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1112»
حدیث نمبر: 83
عَنِ السَّدُوسِيِّ يَعْنِي ابْنَ الْخَصَاصِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ أُقِيمَ الصَّلَاةَ وَأَنْ أُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ وَأَنْ أَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَأَنْ أُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللَّهِ مَا أُطِيقُهُمَا الْجِهَادُ وَالصَّدَقَةُ، فَإِنَّهُمْ زَعَمُوا أَنَّ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرَتْ تِلْكَ جَشِعَتْ نَفْسِي وَكَرِهَتِ الْمَوْتَ، وَالصَّدَقَةُ فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا غُنَيْمَةٌ وَعَشْرُ ذَوْدٍ، هُنَّ رِسْلُ أَهْلِي وَحُمُولَتُهُمْ، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: ((فَلَا جِهَادَ وَلَا صَدَقَةَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِذًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا أُبَايِعُكَ، قَالَ: فَبَايَعْتُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرطیں عائد کر دیں: ”یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حجۃ الاسلام ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ جو دو چیزیں جہاد اور زکوٰۃ ہیں ناں، ان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، کیونکہ جہاد کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جو وہاں سے پیٹھ پھیر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ جہاد میں میرا نفس گھبرا جائے اور موت کو ناپسند کرنے لگے اور رہا مسئلہ زکوٰۃ کا، تو اللہ کی قسم ہے کہ میرے پاس تھوڑی سی بکریاں ہیں اور دس اونٹ ہیں، میرے اہل کے لیے دودھ والے اور سواری والے یہی جانور ہیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور اس کو حرکت دی اور فرمایا: ”اگر جہاد بھی نہ ہو اور زکوٰۃ بھی نہ ہو تو پھر تو جنت میں کیسے داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتا ہوں،“ پھر میں نے ان سب امور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی اور مزاج شناسی سے بدرجۂ اتم متصف تھے، اِس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس آدمی کی جہاد اور زکوۃ کو مستثنی کر دینے کی شرط قبول نہیں کی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس آدمی کے مزاج سے یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر اس کو ان چیزوں کی رخصت نہ دی گئی تو پھر بھی یہ اسلام کو قبول کر لے گا، جبکہ بوقت ِ بیعت بعض امورِ اسلام کو مصلحۃً مستثنی کر دینا بھی درست ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اِشْتَرَطَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ لَّا صَدَقَۃَ عَلَیْھَا وَلَاجِھَادَ۔ قَالَ: وَأَخْبَرَنِیْ جَابِرٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاھِدُوْنَ إِذَا أَسْلَمُوْا۔)) … اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (ابوداود: ۲/ ۴۲، صحیحہ: ۱۸۸۸)
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کہ کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، مبلغینِ اسلام کا حکیم و دانا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 83
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي المثني العبدي، فلم يروِ عنه غير جبلة بن سُحيم، وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 1233، وفي الاوسط : 1148، والحاكم: 2/ 79، والبيھقي: 9/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22298»
حدیث نمبر: 84
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: ((إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: ”تم اہلِ کتاب لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کو یہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی، اگر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بددعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … جو کوئی کلمہ ٔ شہادت کا اقرار کر کے مشرف باسلام ہو جاتا ہے تو اس پر عائد ہونے والا پہلا فرض نماز ہوتا ہے، یہ اسلام کی پہلی اور آخری علامت ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس فرض سے اس قدر غافل ہے کہ اس کو اس جرم کا احساس تک نہیں ہے۔ اس وقت مظلوم اورفقیر مسلمانوں کے حقوق کو بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 84
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1395، 2448، ومسلم: 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2071»