حدیث نمبر: 71
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ)) قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ)) (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ)) (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ))، قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْهِجْرَةُ)) قَالَ: وَمَا الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: ((تَهْجُرُ السُّوءَ)) قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِهَادُ)) قَالَ: وَمَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ)) قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ)) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ثُمَّ عَمَلَانِ هُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِهِمَا، حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ أَوْ عُمْرَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔“ اس نے کہا: ”کون سا اسلام افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان۔“ ایک روایت میں ہے: ”اچھا اخلاق۔“ اس نے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔“ ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر و سماحت۔“ اس نے کہا: ”افضل ایمان کون سا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت۔“ اس نے کہا: ”ہجرت کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برائی کو ترک کر دینا۔“ اس نے کہا: ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد۔“ اس نے کہا: ”جہاد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔“ اس نے کہا: ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دو عمل ہیں، وہ افضل ترین ہیں اور (ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔“
حدیث نمبر: 72
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: ((اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُولِي لَهُ: فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ! أَأَدْخُلُ؟)) قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ لِي، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: بِمَ أَتَيْتَنَا بِهِ؟ قَالَ: ((لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، أَتَيْتُكُمْ بِأَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ)) قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: ((وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ)) قَالَ: فَقَالَ: هَلْ بَقِيَ مِنَ الْعِلْمِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ؟ قَالَ: ((قَدْ عَلَّمَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ربعی بن حراش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بنو عامر کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا: ”کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا: ”اس بندے نے اچھے انداز میں اجازت نہیں لی، اس لیے اس کی طرف جاؤ اور اس کو کہو کہ وہ یوں کہے: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں۔“ اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ خود سن لیے اور اس نے کہا: ”السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی، اس نے کہا: ”پس میں داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کون سی چیز لے کر ہمارے پاس آئے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی میں خیر ہی لے کر آیا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات و عزیٰ کو چھوڑ دو اور دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرو، ایک سال میں ایک ماہ کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اپنے مالدار لوگوں سے زکوٰۃ کا مال لے کر اپنے فقیروں میں تقسیم کر دو۔“ اس بندے نے کہا: ”کیا عمل کی کوئی ایسی قسم بھی ہے، جو آپ نہیں جانتے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم دی ہے، لیکن علم کی بعض ایسی صورتیں بھی ہیں کہ جن کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورہ لقمان: ۳۴)“
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہے، ابتدا میں اجازت لینے کا جو انداز بتایا گیا ہے، عوام و خواص اس سے غافل ہیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دروازے پر معمولی دستک دے کر دروازہ کھول دیتے ہیں اور اندر گھس آتے ہیں، یہ ان کا خود ساختہ انداز ہے، شریعت کا تقاضا نہیں ہے، اسی طرح آخری حصے سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس چیز کی بذریعہ وحی تعلیم دی جاتی تھی، اس کا علم ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 73
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ)) قَالَ: فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟)) قَالَ: مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي، قَالَ: ((فَأَيْنَ تُرِيدُ؟)) قَالَ: أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((فَقَدْ أَصَبْتَهُ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ)) قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبْكَةِ جُرْذَانٍ فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَيَّ بِالرَّجُلِ)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلِ فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِي فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ اللَّهُ فِيهِمْ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ})) ثُمَّ قَالَ: ((دُونَكُمْ أَخَاكُمْ)) قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((الْحَدُوا وَلَا تَشُقُّوا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف آنے کے لیے اپنی سواری کو جلدی چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سوار کا ارادہ تم لوگ ہو۔“ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کہا اور ہم نے اس کا جواب دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم کہاں سے آ رہے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی اپنے اہل و اولاد اور رشتہ داروں کے پاس سے آ رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی اللہ کے رسول کو ملنا چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کی تعلیم دیں کہ وہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔“ اس نے کہا: ”جی میں اقرار کرتا ہوں۔“ اتنے میں اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے بلوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی اپنے سر کے بل گرا اور فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔“ سیدنا عمار اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما جلدی سے گئے، اس آدمی کو بٹھایا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! بندہ تو فوت ہو گیا ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس بندے سے اعراض کر رہا تھا، پس بیشک میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے، اس سے مجھے پتہ چلا کہ بھوکا مرا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ» (جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔) (سورہ انعام: ۸۲)“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اس بھائی کو سنبھال لو۔“ پس ہم اسے اٹھا کر پانی کی طرف لے گئے، اس کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور قبر کی طرف اٹھا کر لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”لحد بناؤ، شق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے مذاہب والوں کے لیے ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … لحد اور شق کی بحث کتاب الجنائز میں آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
حدیث نمبر: 74
((وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ)) قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ رُفِعَ لَنَا شَخْصٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَقَعَتْ يَدُ بَكْرِهِ فِي بَعْضِ تِلْكَ الَّتِي تَحْفُرُ الْجُرْذَانُ، وَقَالَ فِيهِ: ((هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ابھرتا ہوا ایک شخص دکھائی دیا، پھر اسی قسم کی روایت کا ذکر کیا، البتہ یہ الفاظ بھی کہے: ”اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے کھودے ہوئے کسی بل میں گھس گئی،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا: ”یہ ان لوگوں میں سے ہے، جو عمل تو تھوڑا کرتے ہیں، لیکن اجر بہت زیادہ پاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 75
(وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا)) قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور فرمایا: ”اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔“ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: ”لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … قبولیت ِ اسلام سے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 76
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: ((تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ)) قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کر دیں کہ اگر میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں نہ ان عبادات پر زیادتی کروں گا اور نہ ان میں کمی ہونے دوں گا،“ جب وہ چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو یہ بات بھلی لگے کہ وہ اہلِ جنت میں کسی آدمی کو دیکھے تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ احادیث ہیں، جن میں آنے والے مختلف وفود اور لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا گیا، اگرچہ ان میں سارا اسلام بیان نہیں کیا گیا۔
قارئین کرام!کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور کیا کہ جو وفد یا آدمی اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے پہلی دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احکام کے ساتھ ساتھ اس کو نمازکا حکم ضرور دیا، لیکن اس وقت محتاط اندازے کے مطابق (%۹۳) مسلمان اس اہم فریضے کو ادا کرنے سے غافل ہیں، دراصل ایسے لوگ اسلام اور روح اسلام سے بہت دور ہیں، ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق کا شعور تک نہیں ہے۔ نماز ہی مسلمان کی علامت اور پہچان ہے۔
قارئین کرام!کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور کیا کہ جو وفد یا آدمی اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے پہلی دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احکام کے ساتھ ساتھ اس کو نمازکا حکم ضرور دیا، لیکن اس وقت محتاط اندازے کے مطابق (%۹۳) مسلمان اس اہم فریضے کو ادا کرنے سے غافل ہیں، دراصل ایسے لوگ اسلام اور روح اسلام سے بہت دور ہیں، ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق کا شعور تک نہیں ہے۔ نماز ہی مسلمان کی علامت اور پہچان ہے۔