الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الشُّحُ وَالْبُخْلِ باب: لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9840
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي وَإِنَّ مَالَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، جبکہ اس کے مال میں سے اس کے صرف تین حصے ہیں، (۱) جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، (۲) جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور (۳) جو اس نے کسی کو مال دے کر خوش کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … انسان کا حقیقی سرمایہ وہی ہے جو وہ اپنی زندگی میں خرچ کر دیتا ہے، باقی اس کے ورثاء اور لواحقین کا ہے۔