الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الشُّحُ وَالْبُخْلِ باب: لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا وَأَنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ)) قَالَ لَا قَالَ ((فَهَبْهُ لِي)) قَالَ لَا قَالَ ((فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ)) قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ))۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔