حدیث نمبر: 9838
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا وَأَنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ)) قَالَ لَا قَالَ ((فَهَبْهُ لِي)) قَالَ لَا قَالَ ((فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ)) قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … رغبت کا تقاضا تو یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیش کش قبول کر لی جاتی، بہرحال مزاج مختلف ہوتے ہیں اور مالک کو اختیار بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9838
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، دون قوله: ما رايت الذي بالسلام۔ فقد تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل وھو ضعيفيعتبر به، أخرجه الحاكم: 2/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14571»