حدیث نمبر: 9837
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَةٌ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا عَلَيْهِ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ إِلَّا اسْتِحْكَامًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ جب سخی آدمی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینے میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے ہاتھ اس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں، لیکن جب بخیل کو خرچ کرنے کا خیال آتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ حیلے بہانے کر کے بزعم خود اپنا مال محفوظ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9837
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7477»