حدیث نمبر: 9836
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ قَالَ فَفَضَلَ مَعَهَا سَبْعَةٌ قَالَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا قَالَ قُلْتُ لَهُ لَوِ ادَّخَرْتَهُ لِلْحَاجَةِ تَنُوبُكَ أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزارفي مسنده : 3926، والطبراني: 1634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21712»