حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 976
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 294 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: بدون رقم في النص المقدم»