حدیث نمبر: 967
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! قَدْ خَشِيْتُ أَنْ لَا يَكُونَ لِي حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ أُسْتَحَاضُ فَلَا أُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تَخْشَى أَنْ لَا يَكُونَ لَهَا حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، تَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ تُسْتَحَاضُ فَلَا تُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، فَقَالَ: ((مُرِي فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ فَلْتُمْسِكْ كُلَّ شَهْرٍ عَدَدَ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِي وَتَسْتَثْفِرُ وَتَتَنَظَّفُ ثُمَّ تَطَهَّرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكِ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 967
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 217، والحاكم: 1/ 175، والبيھقي: 1/ 354 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28183»