الفتح الربانی
كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس— حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب
بَابُ جَوَازِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي حِجْرِ الْحَائِضِ وَحُكْمِ دُخُولِهَا الْمَسْجِدَ باب: حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل¤ہونے کے حکم کا بیان
عَنْ مَنْبُوذٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ، قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ! وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ، أَيْ بُنَيَّ! وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟ام منبوذ کہتی ہیں: میں سیدہ میمونہؓ کے پاس تھی، سیدنا ابن عباسؓ ان کے پاس آئے، انھوں نے ان سے پوچھا: میرے بیٹے! کیا وجہ ہے کہ تیرا سر پراگندہ ہے؟ انھوں نے کہا: ام عمار میرے سر کی کنگھی کرتی تھیں اور وہ آج کل حائضہ ہیں۔ سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس آتے، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے، اسی طرح وہ کھڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چٹائی آپ کے لیے مسجد میں بچھاتی، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟