حدیث نمبر: 951
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُدَيَّةَ قَالَتْ: أَرْسَلَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا قِرَابَةٌ، فَرَأَيْتُ فِرَاشَهَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَهُ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِهِجْرَانٍ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: لَا وَلَكِنِّي حَائِضٌ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَرَدَّتْنِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ الْحَائِضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا ثَوْبٌ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 951
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قوله: ما يجاوز الركبتين وھذا اسناد ضعيف لجھالة بدية مولاة ميمونة، ومحمد بن اسحاق مدلس۔ أخرجه مسلم: 295 بلفظ: عن ميمونة قالت: كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يضطجع معني وانا حائض وبيني وبينه ثوب۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27356»