حدیث نمبر: 9502
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَدْرِي وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سعید مقبری کہتے ہیں: میں آیا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ ان کے ساتھ ایک اور آدمی گفتگو کر رہا تھا، جب میں ان کے ساتھ داخل ہوا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماماما نے میری چھاتی پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی سرگوشی کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھ،یہاں تک کہ تو ان سے اجازت لے لے۔

وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ کا امتیازی وصف اعتدال ہے۔ جہاں بعض مصلحتوں کی بنا پر اکٹھے تین افراد میں سے دو کو علیحدہ ہو کر صلاح و مشورہ کرنے سے منع کیا گیا ہے، وہاں اگر پہلے ہی سے کسی مقام پر دو افراد رازدارانہ انداز میں گفت و شنید کر رہے ہوں تو بعد میں آنے والے افراد کو بغیر اجازت ان کی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
قارئین ِ کرام! آپ کا ذاتی تجربہ ہو گاکہ بسا اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر آپ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ کوئی آدمی آپ کی مجلس میں گھس کر آپ کے مخفی سلسلۂ کلام کو منقطع کر دے، اگرچہ آنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی اور مخلص دوست کیوں نہ ہو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سے ہی آپ کے حق میںفیصلہ کر دیا ہے۔
عام دوستوں اور تعلق داروں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ان آداب کا خیال نہیں رکھتے، آگے سے تعلق کی وجہ سے ٹوکا بھی نہیں جاتا، جبکہ اندر سے کڑتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9502
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5949»