الفتح الربانی
بيان آداب المجالس— مجالس اور ان کے آداب کا بیان
بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِالْقَادِمِ عَلَى الْمَجْلِسِ باب: مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
حدیث نمبر: 9501
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي قِلَابَةَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوكَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ملیح سے مروی ہے، انھوں نے ابو قلابہ سے کہا: میں اور تمہارے ابو، ہم دو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماماما کے پاس گئے، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لے چمڑے کا تکیہ رکھا، اس کا بھراؤ کھجور کے پتے تھے، لیکن وہ اس پر نہ بیٹھے اور وہ تکیہ ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پڑا رہا۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدا لاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے تکیہ پیش کر رہے ہیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام کرتے ہوئے اس تکیے پر نہ بیٹھے۔ ایسی احادیث ِ مبارکہ کے بعد ہمیں ادنی و اعلی مہمانوں میں اس طرح فرق کرنے سے باز آ جانا چاہیے کہ اعلی کی پرتکلف ضیافت کی جاتی ہے اور ادنی کو پوچھنے کے لیے تیار کوئی نہیں ہوتا ہے۔