حدیث نمبر: 9500
عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِ وَقَعَدَ فِي مَكَانٍ آخَرَ فَقَالَ الرَّجُلُ مَا كَانَ عَلَيْكَ لَوْ قَعَدْتَ فَقَالَ لَمْ أَكُنْ أَقْعُدُ فِي مَقْعَدِكَ وَلَا مَقْعَدِ غَيْرِكَ بَعْدَ شَيْءٍ شَهِدْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو خصیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماتشریف لائے، ایک آدمی ان کو جگہ دینے کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن وہ اس جگہ میں نہیں، بلکہ کسی اور جگہ میں بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا: اگر تم میری جگہ میں بیٹھ جاتے تو تم پر کوئی حرج تو نہیں تھا؟ انھوں نے کہا: نہ میں نے تیری بیٹھک میں بیٹھنا ھےاور نہ کسی اور کی بیٹھک میں، اس چیز کے بعدجو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں دیکھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک آدمی اس کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھنے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وہاں بیٹھنے سے منع فرما دیا۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن درج ذیل حدیث اورشرح پر غور کریں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہٖوَلٰکِنِافْسَحُوْایَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) … کوئی آدمی کسی کے لیے اپنی نشست سے کھڑا نہ ہو، بلکہ مجلس میں گنجائش پیدا کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے وسعت پیدا کر دے گا۔ (مسند احمد: ۲/ ۴۸۳صحیحہ: ۲۲۸)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دوسروں کی خاطر کھڑے نہیں ہونا چاہئے، ہاں ان کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کر دینی چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: اس حدیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ یہ آداب ِ اسلامیہ میں سے نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی کے احترام کی وجہ سے مجلس سے کھڑا ہو جائے اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھ جائے، بلکہ اسے چاہئے کہ آنے والے کے لیے وسعت پیدا کرے۔ جب لوگ زمین پر بیٹھے ہوں تو مجلس میں وسعت پیدا کرنا ممکن ہو گا اور کرسیوں کی صورت میں ناممکن ہے۔ بہرحال کسی کی خاطر کھڑا ہونے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی مجلس سے کھڑا ہو اور وہ وہاں بیٹھجائیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ … (کوئی آدمی کسی کے لیے کھڑا نہ ہو) کم از کم کراہت پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہیہاں نفی بمعنی نہی ہے، وگرنہ نہی کا اصل تقاضا تو تحریم ہے۔ واللہ اعلم۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖثُمَّیَجْلِسُ فِیْہ)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے کھڑا کر کے اس کی جگہ پر مت بیٹھے۔ (مسلم)
ذہن نشین رہے کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ اُس میں دوسرے کو اٹھانے سے اور اِس میں دوسرے کے خود اٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9500
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي الخصيب، أخرجه ابوداود: 4828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5567»